ابھی ابھی
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

قومی اسمبلی کمیٹی نے واپڈا سکیورٹی فورس بل مؤخر کر دیا، کے فور پر ذیلی کمیٹی قائم

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے منگل کو واپڈا سکیورٹی فورس بل 2026 پر غور مؤخر کر دیا۔ کمیٹی نے کے فور منصوبے میں تاخیر کی تحقیقات کے لیے چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی بنا دی۔

Photo: dam, reservoir, water power, water
Photo: dam, reservoir, water power, water تصویر: wallner / Pixabay
اہم نکات
  • کمیٹی نے واپڈا سکیورٹی فورس بل 2026 اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا۔
  • محمد ادریس کی سربراہی میں چار رکنی ذیلی کمیٹی کے فور منصوبے کی تاخیر کی تحقیقات کرے گی۔
  • کچھی کینال سے پانی چوری پر تفصیلی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کی گئی ہے۔
1 ہفتہکچھی کینال پانی چوری رپورٹ کی مہلت
4ذیلی کمیٹی کے ارکان
جنوری 2027ایم 6 پر تعمیر کا آغاز

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے منگل کو ایک بار پھر واپڈا سکیورٹی فورس بل 2026 پر غور مؤخر کر دیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ تاخیر حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کے دوران ہوئی۔

کمیٹی کا 14واں اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں احمد عتیق انور کی صدارت میں ہوا۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بل پر اگلے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ واپڈا ایکٹ 1958 میں سکیورٹی نظام کے قیام، دائرۂ اختیار، اختیارات یا فرائض سے متعلق اس وقت کوئی قانونی شق موجود نہیں۔

کمیٹی نے محمد ادریس کی سربراہی میں چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی بنائی، جو یہ جائزہ لے گی کہ کراچی کے لیے کے فور آبی منصوبہ بھاری اخراجات کے باوجود مکمل کیوں نہیں ہو سکا۔

کچھی کینال سے مبینہ پانی چوری کے معاملے پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ بتایا جائے آیا یہ معاملہ متعلقہ محکموں کو رپورٹ کیا گیا اور کیا کارروائی ہوئی۔ کمیٹی نے معاملے کی صورتحال اور کارروائی پر تفصیلی رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کرانے کو کہا۔

ڈیلی ٹائمز نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے الگ اجلاس کی بھی خبر دی، جو اعجاز حسین جکھرانی کی صدارت میں این ایچ اے ہیڈکوارٹرز میں ہوا۔ کمیٹی نے این ایچ اے کو جاری ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دینے، تاخیر کا شکار منصوبے بروقت مکمل کرنے اور بلوچستان میں افرادی قوت مضبوط کرنے کی ہدایت کی۔

سکھر شکارپور شاہراہ کے معاملے پر کمیٹی نے این ایچ اے اور ممبر سندھ کے جوابات غیر تسلی بخش قرار دیے۔ این ایچ اے کے چیف ایگزیکٹو نے تسلیم کیا کہ کمیٹی کو دکھائی گئی تصاویر زمینی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتی تھیں۔ کمیٹی نے سکھر میں اہل جنرل منیجر تعینات کرنے کی ہدایت کی، جہاں کے سابق جنرل منیجر ستمبر 2026 میں معطل کیے گئے تھے۔

این ایچ اے کے چیف ایگزیکٹو نے کمیٹی کو بتایا کہ ایم 6 سکھر حیدرآباد موٹروے کے سیکشن تین، چار اور پانچ پر تعمیر جنوری 2027 تک شروع ہو جائے گی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ منصوبے کا جنرل منیجر اسلام آباد کے بجائے سندھ میں تعینات کیا جائے۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ بل واپڈا کے ڈیموں اور بجلی کے ڈھانچے کی سکیورٹی سے متعلق ہے، جبکہ کے فور منصوبہ کراچی کو پانی فراہم کرنے کے لیے ہے۔ دونوں میں تاخیر ان لوگوں پر اثر ڈالتی ہے جو اس پانی اور بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

واپڈاکے فورقومی اسمبلی

اس خبر پر مزید