امریکی وسط مدتی انتخابات: پہلے پولنگ مراکز بند، کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ
امریکا میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے اور کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول داؤ پر ہے۔ انڈیانا اور کینٹکی کے کچھ حصوں میں پولنگ سب سے پہلے بند ہوئی۔

- 3 نومبر کو ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہے۔
- نکی ایشیا کے مطابق اندازوں میں ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل ہے۔
- سینیٹ کا مقابلہ کہیں زیادہ کانٹے دار متوقع ہے۔
- انڈیانا اور کینٹکی کے کچھ حصوں میں پولنگ سب سے پہلے بند ہوئی۔
نکی ایشیا کے مطابق امریکا میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے جس سے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔ 3 نومبر کو ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہے۔
سب سے پہلے انڈیانا اور کینٹکی کے کچھ حصوں میں مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے پولنگ مراکز بند ہوئے۔ دونوں ریاستیں مشرقی اور مرکزی ٹائم زون میں پھیلی ہیں، اس لیے بعض مقامات پر پولنگ ایک گھنٹہ بعد بند ہوگی۔ شام 6 بجے تک قطار میں موجود ہر شخص کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔ الجزیرہ کے مطابق سب سے پہلی بندش 23:00 جی ایم ٹی پر ہوئی۔
نکی ایشیا کے مطابق اندازوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکن پارٹی سے ایوانِ نمائندگان چھیننے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا گیا ہے۔ سینیٹ کا مقابلہ کہیں زیادہ سخت متوقع ہے اور نتیجہ چند قریبی مقابلوں پر منحصر ہو سکتا ہے، جن میں الاسکا بھی شامل ہے جہاں مشرقی وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد پولنگ بند ہوگی۔ دوبارہ گنتی یا قانونی چارہ جوئی سے عمل طویل ہو سکتا ہے۔
کک پولیٹیکل رپورٹ کے تجزیے کے مطابق کینٹکی کی سینیٹ نشست ریپبلکنز کے پاس ہی رہنے کی توقع ہے۔ کینٹکی نے 2024 کے انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت کی تھی۔
منگل کو امریکی اسٹاک ملے جلے رجحان کے ساتھ بند ہوئے کیونکہ سرمایہ کار نتائج کے منتظر تھے۔ ایس اینڈ پی 500 میں 0.4 فیصد اور نیس ڈیک کمپوزٹ میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 0.4 فیصد گر گیا۔ نکی ایشیا کے مطابق تیل کی کم قیمتوں اور امریکا ایران تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے رجحان کو سہارا دیا۔
نکی ایشیا کے مطابق ایشیائی ممالک انتخابات کے بعد امریکی تجارتی دباؤ کی نئی لہر کے لیے تیار ہیں۔ توقع ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس پر کسی بھی جماعت کے کنٹرول سے قطع نظر انتظامی اختیارات کے تحت محصولات لگائے گی۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے خدشات کے باعث ٹرمپ نے ووٹنگ سے پہلے چینی درآمدات پر 7.5 فیصد سمیت محصولات کا اعلان روک رکھا تھا۔
نکی ایشیا نے اکتوبر میں جاری ہونے والے اے اے پی آئی ڈیٹا کے سروے کا حوالہ دیا جس کے مطابق ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ایشیائی نژاد امریکیوں اور بحرالکاہل کے جزائر کے باشندوں کا ریپبلکنز پر اعتماد کم ہوا ہے۔ اے اے پی آئی ڈیٹا کے بانی کارتھک راماکرشنن نے کہا: "ان دونوں معاملات میں وہ توقعات پر پورا نہیں اترے۔" (انگریزی سے ترجمہ) رپورٹ کے مطابق ریپبلکن ایشیائی نژاد بالغوں میں سے تقریباً 40 فیصد اب معیشت اور خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں، جو پہلے تقریباً 20 فیصد تھے۔
یہ کیوں اہم ہے
نتیجے سے کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا، جو پاکستان، خلیج اور خطے کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ ایشیائی معیشتیں انتخابات کے بعد ممکنہ نئے امریکی محصولات کے لیے بھی تیار ہیں۔



