تعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکار
حوثیوں اور یمنی حکومتی فورسز کے درمیان تعز کے اطراف لڑائی تیز ہو گئی ہے، جہاں تقریباً 10 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ امدادی اداروں کے مطابق ہزاروں افراد نقل مکانی کر رہے ہیں اور خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی قلت بڑھ رہی ہے۔

- ڈی ڈبلیو کے مطابق جنوب مغربی یمن میں تعز کے اطراف لڑائی کو چار ماہ ہو چکے ہیں۔
- آئی او ایم کے مطابق تعز گورنریٹ میں تقریباً 134,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
- اقوام متحدہ نے تعز کے محاصرے کو "قرونِ وسطیٰ کا محاصرہ" قرار دیا ہے۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق جنوب مغربی یمن کے شہر تعز کے اطراف حوثیوں اور یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی تیز ہو گئی ہے، جس سے شہریوں کو خوراک، پانی اور طبی سامان کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ لڑائی چار ماہ پرانی ہے۔
تعز یمن کا تیسرا بڑا شہر ہے اور اس کی آبادی تقریباً 10 لاکھ ہے۔ شہر حکومتی فورسز کے کنٹرول میں ہے، تاہم حوثی فورسز نے سامان کی ترسیل بڑی حد تک روک رکھی ہے۔ یمنی حکام نے شہریوں کو آس پاس کی پہاڑیوں سے سنائپر فائر کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق لڑائی سے تعز گورنریٹ میں تقریباً 134,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ یکم نومبر 2026 کے بیان کے مطابق مغربی یمن میں بے گھر ہونے والے 319,000 سے زائد افراد میں سے تقریباً نصف اسی گورنریٹ سے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے ہسپتالوں کے لیے ضروری ایندھن، پانی اور طبی سامان روک رکھا ہے۔ تنظیم کی یمن کے لیے محقق نیکو جعفرنیا نے کہا: "حوثیوں نے ایندھن، پانی اور طبی سامان روک رکھا ہے، یعنی وہ تمام چیزیں جو ہسپتالوں کے درست طور پر چلنے کے لیے درکار ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔
ایک رہائشی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں اور شہر میں پیٹرول، کھانا پکانے کی گیس اور پینے کا پانی تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ گورنر نبیل شمسان نے کہا کہ خوراک، ایندھن اور پانی کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم کوئی مدت طے نہیں۔
ناروے کی پناہ گزین کونسل کے مطابق عدم تحفظ کے باعث وہ 7,000 افراد تک نہیں پہنچ پا رہی جنہیں وہ خیمے، کمبل اور تعلیمی سرگرمیاں فراہم کرتی ہے۔ کونسل کی ایڈوکیسی ایڈوائزر ایلیسن بوٹملی نے کہا: "تعز کے اطراف لڑائی اور عدم تحفظ شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ہمارے عملے کی امداد پہنچانے کے لیے غیر محفوظ بنا رہا ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے محاصرے کو قرونِ وسطیٰ جیسا قرار دیا۔ یمن کی مسلح افواج کا دعویٰ ہے کہ حوثی اہداف پر 1,200 سے زائد حملے کیے گئے اور 370 حوثی جنگجو ختم کیے گئے۔
لڑائی جولائی کے آخر میں دوبارہ شروع ہوئی اور ستمبر میں تیز ہوئی جب حوثیوں نے علاقے پر قبضہ کیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے ہیلتھ کلسٹر کے مطابق 25 اکتوبر 2026 تک کم از کم 1,677 افراد ہلاک اور 7,395 زخمی ہوئے۔ تجزیہ کار ہشام العمیسی نے خدشہ ظاہر کیا کہ حوثی تعز کے قریب کامیابیوں سے حوثی مخالف کیمپ کو کمزور کر سکتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
لڑائی خلیجی تنازع کی اس وسیع تصویر کا حصہ ہے جس پر پاکستانی گہری نظر رکھتے ہیں، اور اس کا اثر اس خطے پر پڑتا ہے جہاں بہت سے پاکستانی کارکن رہتے ہیں۔



