ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

شی جن پنگ کا پارٹی نظم و ضبط پر زور، چین میں ریکارڈ برطرفیاں

چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت نے بیجنگ میں چار روزہ بند کمرہ اجلاس کیا جس کا محور سخت نظم و ضبط تھا۔ بی بی سی کے مطابق ریکارڈ تعداد میں افراد کو ہٹایا گیا، جبکہ ڈی ڈبلیو کے مطابق جانشین کا سوال حل طلب رہا۔

Photo: beijing, china, museum, asia
Photo: beijing, china, museum, asia تصویر: derwiki / Pixabay
اہم نکات
  • پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس ہفتے بیجنگ میں چار دن بند کمرہ اجلاس کیا۔
  • شی جن پنگ نے انسدادِ بدعنوانی مہم تیز کرنے اور اہلکاروں سے زیادہ وفاداری اور پہل کا اشارہ دیا۔
  • بی بی سی نے ریکارڈ تعداد میں برطرفیوں کی خبر دی۔
  • ڈی ڈبلیو کے مطابق شی 73 سال کے ہیں اور اگلی خزاں میں جنرل سیکریٹری کے طور پر ان کی توثیق کا قوی امکان ہے۔
4 دناجلاس کا دورانیہ
73شی کی عمر
2032جنرل سیکریٹری کے طور پر ممکنہ مدت تک

چینی کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس ہفتے بیجنگ میں چار روز تک بند کمرے میں اجلاس کیا جس کا مرکزی نکتہ پارٹی کے اندر سخت قیادت اور نظم و ضبط تھا۔ بی بی سی نیوز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ریکارڈ تعداد میں برطرفیاں ہوئیں اور شی جن پنگ نے پارٹی نظم و ضبط پر زور دیا۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق شی نے اشارہ دیا کہ موجودہ انسدادِ بدعنوانی مہم مزید گہری کی جائے گی اور ہر سطح کے پارٹی عہدیداروں سے زیادہ وفاداری اور پہل کی توقع کی جائے گی۔ جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں بدعنوانی سے نمٹنے اور پارٹی کی گورننس کی کمزوری دور کرنے پر شی اور قیادت کی تعریف کی گئی۔ بیان میں جامع اور سخت پارٹی قیادت کو مسلسل آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اکتوبر کے وسط میں پارٹی کے جریدے چیوشی میں شائع ہونے والی تقریر میں شی نے سیاسی نظام سے 'دو چہرے والے اہلکاروں' کی نشاندہی اور خاتمے کی بات کی۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق انہوں نے وفاداری کا دعویٰ کرتے ہوئے ہدایات کے خلاف کام کرنے والوں کو سیاسی موقع پرست قرار دیا اور ان اہلکاروں پر تنقید کی جو ہم آہنگی کو مسائل سے بچنے کا بہانہ بناتے ہیں۔

کنگز کالج لندن کے لاؤ چائنا انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کیری براؤن نے کہا کہ شی عدم استحکام کے ممکنہ ذرائع کم سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ براؤن کے بقول: "This is just going to intensify because if [the CCP] isn't disciplined and united, the party believes that it will go the same way as everywhere else in the world at the moment and become disunited and unstable"۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "As long as you have unity, you live for another day, right? But if you have disunity, you probably die the same day"۔

براؤن کے مطابق نظام کو ایک مشکل درپیش ہے: پہل کی حوصلہ افزائی سے پارٹی کا کنٹرول کمزور اور بدعنوانی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ سخت قیادت پر زور سے پہل دب سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شی زیادہ کنٹرول اور استحکام کے لیے کچھ عملی لچک قربان کرنے کو تیار نظر آتے ہیں، اور یہ طریقہ کم از کم فی الحال 'کسی حد تک کام کرتا ہے'، کیونکہ چینی معیشت تباہ کن نہیں مگر بہت اچھی بھی نہیں۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے سیاسی ماہر چونگ جا ایان نے کہا کہ شی کے تحت پارٹی عہدیداروں کے پاس اپنے فیصلے کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ ان کے الفاظ میں: "The 'proactivity' demanded by Xi is limited to the implementation, not decision-making"۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق اجلاس نے جانشین کا سوال حل طلب چھوڑ دیا۔ شی 73 سال کے ہیں، اگلی خزاں میں پارٹی جنرل سیکریٹری کے طور پر ان کی توثیق کا قوی امکان ہے اور وہ 2032 تک اس عہدے پر رہ سکتے ہیں۔ 2018 میں شی کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں نے ریاستی اور پارٹی رہنماؤں کے لیے مدتِ عہدہ کی حد ختم کر دی تھی۔ دونوں ماہرین کے مطابق جانشینی کا معاملہ اندرونی استحکام کی کوششوں میں اہم کردار رکھتا ہے، اور چونگ کے مطابق شی کو خدشہ ہو سکتا ہے کہ پہلے جانشین کا نام لینے سے ان کی اتھارٹی کمزور ہو جائے گی۔

یہ کیوں اہم ہے

چین پاکستان کا قریب ترین شراکت دار ہے، اس لیے بیجنگ میں قیادت اور نظم و ضبط کی تبدیلیاں اسلام آباد کے لیے اہم ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

چینشی جن پنگکمیونسٹ پارٹی

اس خبر پر مزید