ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

جامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دی

جامعہ کراچی نے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے نتائج کی شکایات پر تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ 4 نومبر کو دوپہر 12 بجے ہوگا۔

Hanoi classroom, summer 2003
Hanoi classroom, summer 2003 تصویر: Syced / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • بی اے ایل ایل بی سیکنڈ ایئر کے نتائج پر تین رکنی کمیٹی قائم
  • ارکان: جسٹس (ر) ضیا پرویز، جسٹس (ر) ندیم اختر اور ایچ ای سی کے ڈاکٹر نذیر حسین
  • پہلا اجلاس 4 نومبر کو دوپہر 12 بجے وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں
3کمیٹی کے ارکان
4 نومبر، دوپہر 12 بجےپہلا اجلاس

جامعہ کراچی نے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے نتائج اور مارک شیٹس کی شکایات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق یہ فیصلہ قائم مقام وائس چانسلر طفیل جوکھیو کے دور میں کیا گیا۔

کمیٹی میں جسٹس (ر) ضیا پرویز، جسٹس (ر) ندیم اختر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر نذیر حسین شامل ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ارکان سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور ایچ ای سی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جامعہ کے مطابق کچھ طلبہ نے شکایت کی کہ وہ امتحان میں کامیاب ہوئے مگر جاری کی گئی مارک شیٹس میں انہیں فیل دکھایا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اسکروٹنی کی درخواستیں دیں۔

اسکروٹنی کے بعد طلبہ کو کامیاب قرار دینے پر سوالات اٹھے ہیں۔ موجودہ قواعد کے تحت اسکروٹنی میں صرف دوبارہ گنتی، میزان اور نمبروں کے اندراج کی جانچ ہو سکتی ہے، جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ نہیں ہو سکتی۔

کمیٹی یہ جائزہ لے گی کہ نتائج تیار کرنے، مارک شیٹس جاری کرنے اور اسکروٹنی میں قواعد پر عمل ہوا یا نہیں، اور بے ضابطگیوں کی بنیادی وجوہات کیا ہیں۔ وہ امتحانی ریکارڈ، مارک شیٹس، اسکروٹنی کی درخواستوں اور دیگر دستاویزات کا بھی جائزہ لے گی۔

کمیٹی متاثرہ طلبہ، پرچے جانچنے والے اساتذہ اور اسکروٹنی کے بعد جوابی پرچے دوبارہ دیکھنے والے اہلکاروں کے بیانات قلمبند کرے گی۔ ارکان شعبہ امتحانات کا دورہ کریں گے اور کنٹرولر امتحانات سمیت دیگر حکام سے پوچھ گچھ کریں گے۔

کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حقائق پر مبنی نتائج جامعہ انتظامیہ کو پیش کرے۔ اس کا پہلا اجلاس بدھ 4 نومبر کو دوپہر 12 بجے وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں ہوگا۔

جامعہ الحاق شدہ لا کالجز کے لیے تدریس، امتحانات اور نتائج کے شیڈول پر مشتمل جامع تعلیمی کیلنڈر بھی تیار کرنا چاہتی ہے، جو اس ماہ ہونے والے اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

یہ کیوں اہم ہے

جامعہ کراچی سے ملحقہ لا کالجز کے طلبہ کی ڈگریوں کا انحصار درست نتائج اور مارک شیٹس پر ہے۔ کمیٹی کے نتائج ان طلبہ کے لیے اہم ہوں گے جو خود کو غلط طور پر فیل دکھائے جانے کی شکایت کر رہے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

جامعہ کراچیلا کالجزامتحانات

اس خبر پر مزید