اسرائیلی انتخابات کے غیر فیصلہ کن نتائج کے بعد اپوزیشن کی آئزن کوٹ کی حمایت
اسرائیل کی اپوزیشن کی پانچ جماعتوں کے سربراہوں نے منگل کو گیڈی آئزن کوٹ کو وزیر اعظم کے لیے تجویز کرنے پر اتفاق کیا۔ 27 اکتوبر کے انتخاب میں کسی بلاک کو اکثریت نہیں ملی اور اپوزیشن عرب جماعتوں سے اتحاد پر منقسم ہے۔

- اپوزیشن رہنماؤں نے ہرزلیہ میں ملاقات کر کے گیڈی آئزن کوٹ کی حمایت پر اتفاق کیا۔
- نیتن یاہو کے بلاک نے 53، اپوزیشن نے 48 اور عرب جماعتوں نے 19 نشستیں جیتیں؛ اکثریت کے لیے 61 درکار ہیں۔
- اپوزیشن عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر تقسیم ہے۔
- صدر اسحاق ہرزوگ بدھ سے مشاورت شروع کریں گے۔
اسرائیل کی اپوزیشن کی پانچ جماعتوں کے سربراہوں نے منگل کو گیڈی آئزن کوٹ کو اگلا وزیر اعظم بنانے کی حمایت پر اتفاق کیا۔ الجزیرہ کے مطابق وہ تل ابیب کے شمال میں واقع ہرزلیہ میں 27 اکتوبر کے انتخاب کے بعد پہلی مشترکہ ملاقات میں شریک ہوئے۔
انتخاب میں نہ آئزن کوٹ کے تبدیلی بلاک کو اور نہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں اکثریت ملی۔ اکثریت کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ نیتن یاہو کے بلاک نے 53 نشستیں جیتیں، جن میں 27 لیکود کی ہیں، جبکہ آئزن کوٹ کے بلاک کو 48 ملیں۔ عرب اکثریتی فہرستوں نے ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کی 11 اور راعم کی آٹھ ہیں۔
مشترکہ بیان میں اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ان کی تمام جماعتیں صدر اسحاق ہرزوگ کو آئزن کوٹ کی سفارش کریں گی۔ بیان میں کہا گیا: "پارٹی رہنما باہم ہم آہنگ ہیں اور '7 اکتوبر کی حکومت' کی جگہ قومی ہنگامی حکومت لانے کے لیے فوری اقدام کریں گے۔" (انگریزی سے ترجمہ) مذاکراتی ٹیمیں پالیسی خطوط اور اتحادی معاہدوں کا مسودہ فوراً تیار کرنا شروع کریں گی۔ رہنماؤں نے آئزن کوٹ کے طے کردہ چار اصولوں کی پاسداری کا بھی کہا، جن میں یہ شامل ہے کہ حکومت میں شامل تمام جماعتیں اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کریں اور حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں۔
بنیادی اختلاف عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر ہے۔ یائر گولان واحد اپوزیشن رہنما ہیں جو کھل کر اس کی حمایت کر رہے ہیں اور انہوں نے مذاکرات سے پہلے عرب جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ایویگدور لیبرمین اس کے سخت مخالف ہیں مگر دوبارہ انتخاب سے بچنا چاہتے ہیں۔ آئزن کوٹ کی جماعت نے بظاہر صراحت کے بغیر اس خیال کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ نفتالی بینیٹ کی جماعت ٹوگیدر کا مؤقف واضح نہیں۔ بینیٹ نے کہا: "ہمارے پاس وقت نہیں، ہمیں انتہائی عجلت سے کام لینا ہوگا۔" (انگریزی سے ترجمہ)
فرانس 24 کے مطابق عرب جماعتوں کے رہنماؤں نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کی مذمت کی، تاہم حماس کو دہشت گرد تنظیم نہیں کہا۔ دونوں عرب اکثریتی فہرستوں کے رہنماؤں نے کہا کہ ان کا مشترکہ مقصد اس حکومت کو گرانا ہے جسے وہ نسل پرست قرار دیتے ہیں۔ یوسف جبارین نے کہا کہ اپوزیشن کو سیاسی حقیقت تسلیم کر کے نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
نیتن یاہو نے پیر کو اپنی قیادت میں وسیع قومی حکومت کی اپیل کی اور عرب اکثریتی فہرستوں کے ساتھ اتحاد کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا: "یہودی عوام کی واضح اکثریت نے لیکود کو سب سے بڑی جماعت چنا اور مجھے، بطور وزیر اعظم، اگلی حکومت چلانے کے لیے چنا۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے مزید کہا: "ہم اپنے شراکت داروں اور ہر اس جماعت کے ساتھ وسیع حکومت بنانا چاہتے ہیں جو شامل ہونا چاہے اور دہشت گردی کی حمایت نہ کرے۔" (انگریزی سے ترجمہ) کسی اپوزیشن رہنما نے ان کے ساتھ شمولیت پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
صدر ہرزوگ بدھ اور جمعرات کو جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ انہیں امیدوار چننے کے لیے سات دن، یعنی 11 نومبر تک، کا وقت ہے، اور منتخب امیدوار کو اتحاد بنانے کے لیے 28 دن ملیں گے جن میں 14 دن کی توسیع ہو سکتی ہے۔ دوسری کوشش ناکام ہو تو 61 ارکان صدر سے تیسرا امیدوار چننے کو کہہ سکتے ہیں۔ اگر 14 دن میں یہ نہ ہوا تو پارلیمنٹ تحلیل ہو جاتی ہے اور نئے انتخابات ہوتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
اسرائیلی سیاست غزہ اور خطے کے اس تنازع پر اثر ڈالتی ہے جسے پاکستانی قریب سے دیکھتے ہیں۔ اسرائیل کی اگلی حکومت کا فیصلہ اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔



