ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

امریکا کے ایران پر نئے محدود حملے، تہران ثالث کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام پر نئے محدود حملے کیے۔ ایران قطر کی پیش کردہ جوہری تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

امریکا کے ایران پر نئے محدود حملے، تہران ثالث کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے
تصویر: WikiImages / Pixabay
اہم نکات
  • ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، ایرانی میڈیا نے جزیرہ قشم پر دو دھماکوں کی اطلاع دی۔
  • یہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد پہلے حملے تھے۔
  • دو سرکاری عہدیداروں کے مطابق ایران جوہری پروگرام پر قطری تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
440.9 کلوگرام60 فیصد تک افزودہ ایرانی یورینیم
آٹھ ماہ سے زیادہجنگ کی مدت
2قشم پر رپورٹ شدہ دھماکے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے ایک فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے نئے محدود حملے کیے۔ گلف نیوز کے مطابق انہوں نے ہدف کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم کے علاقے سوزا میں دو دھماکوں کی اطلاع دی۔ آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے مقامی عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ جزیرے پر طیارے کی آواز سنائی دینے کے بعد دو پروجیکٹائل آ کر لگے۔

ٹرمپ نے کارروائی کو معمولی قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "انہوں نے طیارہ شکن آلہ سا بنا لیا تھا اور ہم نے اسے تقریباً پندرہ منٹ میں، شاید پانچ میں، تباہ کر دیا" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے صحافیوں سے یہ بھی کہا: "یہ جنگ نہیں ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ مذاکرات کے بارے میں ٹرمپ نے کہا: "ہم ایران سے بات کر رہے ہیں۔ ہم کرتے آئے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔

گلف نیوز کے مطابق منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کانگریس کے دونوں ایوان ہار گئے اور یہ حملے اس کے بعد پہلے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تنازع سے نمٹنے کے طریقے اور ایندھن کی بلند قیمتوں پر ووٹروں کی ناراضی نے شکست میں کردار ادا کیا۔ انتخابات کے بعد ٹرمپ کبھی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں اور کبھی جنگ کے حل کے قریب ہونے کا عندیہ۔

مشرق وسطیٰ کی حکومتوں کے دو عہدیداروں کے مطابق ایران امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر اختلافات کے بارے میں مرکزی ثالث قطر کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ان پر تبصرے سے انکار کیا۔ ایران اس وقت تک جوہری سرگرمیوں پر بات کرنے کو تیار نہیں جب تک امریکا چند بنیادی شرائط نہ مان لے، جن میں بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا خاتمہ، پابندیاں ہٹانا، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصان کا معاوضہ اور پورے خطے میں کارروائیاں روکنا شامل ہیں۔

علاقائی عہدیداروں کے مطابق ثالثوں اور ایران نے ایک ممکنہ عبوری معاہدے پر بھی بات کی۔ اس میں دو دن کے اعتماد سازی کے اقدامات شامل ہوں گے، جن میں امریکی ناکہ بندی ختم کرنا اور کچھ منجمد ایرانی رقوم جاری کرنا شامل ہے۔ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو امریکا اور اسرائیل کے نشانہ بنائے گئے مقامات تک رسائی دے گا اور دوسرے دن عمان کے ساتھ ترمیم شدہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھولے گا، جسے امریکا نے منظور نہیں کیا۔ اس کے بعد افزودہ یورینیم پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 440.9 کلوگرام یورینیم ہے۔ جنگ آٹھ ماہ سے زیادہ پرانی ہے اور جوہری اختلافات اسے ختم کرنے کی کوششوں میں سب سے مشکل مسئلہ ہیں۔ قطری حکومت کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعہ کو اپنے قطری ہم منصب سے بات کی۔

پس منظر

خبر.پی کے نے 7 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے جزیرہ قشم پر محدود حملوں کی تصدیق کی اور کہا کہ تہران سے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ 6 نومبر کو رپورٹ کیا گیا کہ ٹرمپ جلد فیصلہ کریں گے کہ جنگ کو وسعت دی جائے یا نہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

قشم آبنائے ہرمز میں واقع ہے، اور اس خطے کے تنازع کا اثر تیل کی قیمتوں، جہاز رانی اور خلیج میں کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں پر پڑتا ہے۔ 7 نومبر کو خبر.پی کے کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں پیٹرول 346 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 378 روپے فی لیٹر تھا۔ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مذاکرات میں کوئی تبدیلی ایندھن کے اخراجات اور خلیج میں رشتہ دار رکھنے والے خاندانوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانآبنائے ہرمزامریکا

اس خبر پر مزید