ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

آئزنکوٹ کو 67 سفارشات مل گئیں، ہرزوگ اتوار کو حکومت سازی کا فیصلہ بتائیں گے

اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کو عرب جماعتوں کی حمایت کے بعد حکومت بنانے کے لیے 67 ارکان کی سفارش مل گئی ہے۔ صدر اسحاق ہرزوگ اتوار 8 نومبر کو اپنا فیصلہ سنائیں گے۔

آئزنکوٹ کو 67 سفارشات مل گئیں، ہرزوگ اتوار کو حکومت سازی کا فیصلہ بتائیں گے
تصویر: Clema12 / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • 67 ارکان نے گادی آئزنکوٹ کی سفارش کی، 46 نے بنیامین نیتن یاہو کی اور سات نے کسی کی نہیں۔
  • جوائنٹ لسٹ، رعام اور ڈیموکریٹس کی جانب سے آئزنکوٹ کی حمایت کی اطلاع ہے۔
  • صدر اسحاق ہرزوگ اتوار 8 نومبر کو فیصلہ بتائیں گے۔
67آئزنکوٹ کے لیے سفارشات
46نیتن یاہو کے لیے سفارشات
7غیر جانبدار ارکان
11جوائنٹ لسٹ کی نشستیں

اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ گزشتہ ہفتے کے انتخابات کے بعد 67 ارکانِ پارلیمنٹ کی سفارشات حاصل کر کے نئی حکومت بنانے کی دوڑ میں سب سے آگے آ گئے ہیں۔

فرانس 24 کے مطابق صدر اسحاق ہرزوگ نے تمام پارٹی رہنماؤں سے بات چیت کی اور کہا کہ وہ اتوار 8 نومبر کو بتائیں گے کہ حکومت سازی کی ذمہ داری کسے سونپی جائے گی۔ 46 ارکان نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سفارش کی جبکہ سات ارکان نے کسی کی حمایت نہیں کی۔

عرب نیوز کے مطابق اسرائیل کی سب سے بڑی عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ نے جمعرات کو کہا کہ وہ آئزنکوٹ کی سفارش کرے گا۔ اس اتحاد نے انتخابات میں 11 نشستیں جیتی تھیں۔

الجزیرہ کے مطابق عرب اکثریتی جماعتوں رعام اور ڈیموکریٹس نے بھی آئزنکوٹ کی حمایت کی ہے۔ اس کے مطابق یہ حمایت اس وقت سامنے آئی جب نیتن یاہو نے ریکارڈ ووٹنگ کے بعد عرب اکثریتی فہرستوں پر تنقید کی تھی۔

فرانس 24 کے مطابق الٹرا آرتھوڈاکس یہودی ووٹروں کی نمائندہ دو بڑی جماعتوں میں سے ایک نے، جو نیتن یاہو کے اتحاد کی دیرینہ حلیف ہے، کسی امیدوار کی سفارش نہیں کی۔ نشریاتی ادارے کے مطابق اس سے جمعرات 5 نومبر کو آئزنکوٹ نمایاں امیدوار بن گئے۔

جمعے کو آئزنکوٹ نے کہا کہ نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے حکومت بنانے میں انہیں "نمایاں پیش رفت" ہو رہی ہے (انگریزی سے ترجمہ)۔ فرانس 24 کے مطابق ان کے ممکنہ اتحادیوں میں سے ایک نے الٹرا آرتھوڈاکس یہودیوں کے لیے لازمی فوجی خدمت کا مطالبہ واپس لے لیا اور اس برادری سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی۔

فرانس 24 کے مطابق صدر نے اتحادی حکومت کے لیے مذاکرات کا عمل شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آئزنکوٹ حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت جمع کر سکیں گے یا نہیں۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 3 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ 27 اکتوبر کے انتخابات میں کسی بلاک کو اکثریت نہ ملنے پر اسرائیل کی پانچ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے گادی آئزنکوٹ کو وزیر اعظم بنانے کی سفارش پر اتفاق کیا تھا۔ اس وقت اپوزیشن عرب جماعتوں سے اتحاد پر منقسم تھی۔

یہ کیوں اہم ہے

اسرائیل میں حکومت سازی خطے کی سیاست پر اثر ڈالتی ہے جس پر پاکستانی قارئین گہری نظر رکھتے ہیں۔ رپورٹس میں پاکستان پر اس کے براہِ راست اثرات کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسرائیلگادی آئزنکوٹبنیامین نیتن یاہو

اس خبر پر مزید