ٹرمپ کی تصدیق: ایران کے جزیرہ قشم پر نئے محدود امریکی حملے، مذاکرات جاری
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فورسز نے جمعے کو ایرانی فضائی دفاعی نظام پر معمولی حملے کیے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے جزیرہ قشم پر دو دھماکوں کی اطلاع دی، جبکہ ٹرمپ کے مطابق تہران سے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

- ٹرمپ نے جمعے کو ایرانی فضائی دفاعی نظام پر محدود امریکی حملوں کی تصدیق کی۔
- ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرہ قشم کے علاقے سوزا میں دو دھماکے ہوئے۔
- قطر نے امریکا ایران مذاکرات ناکام ہونے کی خبروں کو مسترد کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے جمعے کو ایران پر نئے محدود حملے کیے، جن کا ہدف ایک ایرانی فضائی دفاعی نظام تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم کے علاقے سوزا میں دو دھماکوں کی آواز کی اطلاع دی۔ یہ آبی گزرگاہ تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔
ٹرمپ نے اس کارروائی کو معمولی قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "ہم معمولی حملے کرتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ ہدف کے بارے میں ان کا کہنا تھا: "انہوں نے ایک چھوٹا سا طیارہ شکن نظام بنایا تھا اور ہم نے اسے تقریباً 15 منٹ میں، شاید پانچ میں، تباہ کر دیا" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے ہدف کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ فضائی دفاعی دستوں نے قشم کے اوپر ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ جزیرے پر صورت حال نسبتاً پرسکون ہے اور وہ مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔
ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ ان کی انتظامیہ تہران کے نمائندوں سے بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم اب ان سے بات کر رہے ہیں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)، اور مذاکرات میں کافی پیش رفت کا دعویٰ کیا۔ ہفتے کو قطر نے مذاکرات ناکام ہونے کی خبروں کو مسترد کیا۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا: "ایسے جھوٹے دعوے پھیلانا صرف انہی کے کام آتا ہے جو جنگ کو طول دینا اور خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔
الجزیرہ کے مطابق جمعے کے حملے منگل کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے پیچھے رہ جانے کے بعد پہلے حملے ہیں، جس کا الزام ٹرمپ نے ایران جنگ پر لگایا۔ جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو شاید باقی ایران کو تباہ کرنا پڑے۔ نیویارک ٹائمز نے بدھ کو نامعلوم پینٹاگون حکام اور فوجی کمانڈروں کے حوالے سے بتایا کہ ہزاروں امریکی فضائی اور بحری اہلکار ٹرمپ کے حکم پر بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تہران نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق ہفتے کو کہا کہ مسلح افواج زیادہ چوکس ہیں اور جنگ کے آغاز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں، اور ان میں زیادہ حوصلہ، عزم اور خود اعتمادی ہے۔
خطے میں دیگر پیش رفت میں اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کے علاقے کی طرف داغا گیا کروز میزائل روک کر تباہ کر دیا گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حوثی بحیرہ احمر میں آمدورفت کی نگرانی ایسے نظام سے کرتے ہیں جس میں جہاز ای میل کے ذریعے محفوظ راستہ مانگتے ہیں اور عموماً 24 گھنٹوں میں جواب ملتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے جوہری پروگرام کی معلومات پر 20 ملین ڈالر تک انعام اور ممکنہ منتقلی کی پیشکش کا بھی اعلان کیا۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کی اپنی سات شرائط پر امریکی جواب کو غیر مطمئن کن قرار دیا، جبکہ قطر نے ثالثی تیز کی۔ 5 نومبر کو رپورٹ کیا گیا کہ ٹرمپ نے مانا کہ ایران جنگ اور اس سے بڑھنے والی ایندھن کی قیمتوں نے ریپبلکن شکست پر اثر ڈالا۔
یہ کیوں اہم ہے
آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اس لیے وہاں لڑائی کا اثر پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ خبر ڈاٹ پی کے کے اعداد و شمار کے مطابق 7 نومبر کو پیٹرول 346 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 378 روپے فی لیٹر تھا۔ خلیج اور خطے میں کام کرنے والے پاکستانی کارکن بھی میزائل اور جہاز رانی کے خطرات سمیت وسیع تر تنازع سے متاثر ہو سکتے ہیں۔



