ابھی ابھی
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

پٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کا آخری دور 10 نومبر کو

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے پر مذاکرات کا آخری دور منگل 10 نومبر کو ہوگا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔

پٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کا آخری دور 10 نومبر کو
تصویر: Sgroey / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • 24 نیوز کے مطابق مذاکرات کا آخری دور 10 نومبر کو ہوگا۔
  • ذرائع کے مطابق حکومت لیوی بتدریج ختم کرنے، 1000 سی سی گاڑیوں اور زراعت کو ریلیف دینے پر تیار ہے۔
  • جماعت اسلامی نے ریلیف نہ ملنے پر لانگ مارچ کا عندیہ دیا ہے۔
10 نومبرمذاکرات کا آخری دور
1000 سی سیریلیف کی گاڑیوں کی کیٹیگری

24 نیوز ایچ ڈی کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف پیکج پر مذاکرات کا آخری دور منگل 10 نومبر کو ہوگا۔ ڈیلی پاکستان اور ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور مذاکرات پر تفصیلی گفتگو کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج نے عوامی ریلیف کے لیے بہت سے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

اس سے پہلے ڈیلی پاکستان اردو نے بتایا تھا کہ دونوں جانب کی کمیٹیاں اسلام آباد میں ملاقات کر کے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بتدریج ختم کرنے کے معاہدے کا مسودہ تیار کریں گی۔ اس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت لیوی کے بتدریج خاتمے، 1000 سی سی گاڑیوں اور زرعی شعبے کو ریلیف دینے پر رضامند ہے۔

حتمی مسودے کی منظوری دونوں جانب کی قیادت دے گی۔ لیاقت بلوچ کے حوالے سے بتایا گیا کہ دونوں جانب سے طے شدہ مسودے کا جائزہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان خود لیں گے۔ ان سے اور دیگر رہنماؤں سے مشاورت کے بعد مذاکرات کی پیش رفت اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق جمعرات کو پارٹی اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ لیوی پر مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں اور انہیں کامیاب بنانا وزیراعظم شہباز شریف کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف نہ دے سکی تو جماعت اسلامی لانگ مارچ کا حق رکھتی ہوگی۔ دیگر رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی نے لیوی ختم نہ ہونے پر دوبارہ احتجاج کی تنبیہ کی ہے۔

پس منظر

خبر پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 7 نومبر کو پٹرول 346 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 378 روپے فی لیٹر تھا۔ 7 نومبر کو خبر پی کے نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ وزیراعظم نے رجسٹرڈ مستحقین کو رعایتی ایندھن نہ دینے والے پمپوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا، جبکہ فیول ریلیف پروگرام میں 1 کروڑ 55 لاکھ سے زائد شہری رجسٹر ہو چکے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پٹرولیم لیوی میں کسی بھی تبدیلی سے گھرانوں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے ایندھن کی قیمت متاثر ہوگی۔ 7 نومبر کو پٹرول 346 اور ڈیزل 378 روپے فی لیٹر تھا۔ اگر 1000 سی سی گاڑیوں اور زراعت کو ریلیف دینے پر اتفاق ہوا تو اس کا تعلق خاص طور پر موٹر سائیکل و کار مالکان اور کسانوں سے ہوگا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پٹرولیم لیویجماعت اسلامیایندھن کی قیمتیں

اس خبر پر مزید