ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ٹرمپ نے اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 41 سالہ اسٹیفن ملر کو سوزی وائلز کی جگہ وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔ ملر 9 نومبر، پیر کو عہدہ سنبھالیں گے، یعنی ڈیموکریٹس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی کے چند دن بعد۔

ٹرمپ نے اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا
تصویر: White House / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • اسٹیفن ملر 9 نومبر سے سوزی وائلز کی جگہ چیف آف اسٹاف ہوں گے۔
  • ملر ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی کے مرکزی کردار ہیں۔
  • یہ تبدیلی اس وسط مدتی انتخاب کے بعد آئی جس میں ڈیموکریٹس نے ایوان اور سینیٹ جیتے۔
9 نومبرملر عہدہ سنبھالیں گے
41ملر کی عمر
69وائلز کی عمر

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اعلان کیا کہ اسٹیفن ملر سوزی وائلز کی جگہ وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف ہوں گے۔ ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا، اور ملر پیر 9 نومبر کو عہدہ سنبھالیں گے۔

ملر کی عمر 41 سال ہے اور وہ اس وقت ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مشیر ہیں۔ ٹرمپ نے لکھا: "مجھے اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے" (انگریزی سے ترجمہ) کے بجائے ان کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے موجودہ ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ان کے سب سے قابلِ اعتماد مشیروں میں سے ایک اسٹیفن ملر چیف آف اسٹاف بنیں گے (انگریزی سے ترجمہ)۔

69 سالہ وائلز وائٹ ہاؤس کی پہلی خاتون چیف آف اسٹاف تھیں۔ وہ اب ٹرمپ کے سیاسی آپریشن میں منتقل ہوں گی۔ انہوں نے ایکس پر بیان میں رخصتی کی تصدیق کی اور اس عہدے کو "زندگی بھر کا اعزاز" (انگریزی سے ترجمہ) قرار دیا۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق انہوں نے جمعرات کو استعفیٰ دیا اور جمعہ ان کا آخری دن تھا۔

فلوریڈا روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے، دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق، کہا: "میرا خیال ہے سوزی نے بہت اچھا کام کیا، شاندار کام ... زندگی میں کبھی کبھی فیصلے کرنے پڑتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ نے ملر کو بہترین منتظم کہا اور اشارہ دیا کہ وہ روزمرہ پالیسی امور سنبھالیں گے۔ انتظامیہ اس سے قبل وائلز کو ہٹائے جانے کی خبروں کی تردید کر چکی تھی۔

ملر 2016 کی مہم سے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ٹرمپ کے قریبی مشیر ہیں۔ انہوں نے سخت امیگریشن پالیسیوں کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا، جن میں ٹرمپ کی دوسری مدت میں بڑے پیمانے پر ملک بدری شامل ہے۔ فرانس 24 کے مطابق جنوری میں منی ایپولس میں امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں دو مظاہرین کی ہلاکت کے بعد ان پر خاص تنقید ہوئی۔

یہ تبدیلی منگل کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوئی جن میں ڈیموکریٹس نے ایوان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول حاصل کیا۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ڈیموکریٹس 3 جنوری سے کانگریس کا کنٹرول سنبھالیں گے۔ اس کے مطابق سبکدوش ہونے والے سینیٹر تھام ٹلس نے ملر پر تنقید کرتے ہوئے انہیں "بڑا مسئلہ" (انگریزی سے ترجمہ) کہا۔

دی انڈیپنڈنٹ نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے لکھا کہ ٹرمپ کی مقبولیت کم ہونے پر وہ وائلز سے ناخوش ہو رہے تھے، اور ان کے حلقے میں بعض نے کہا کہ ان کے اہلِ خانہ نے عہدے کا مالی فائدہ اٹھایا۔ یہ بات صرف ایک ادارے نے رپورٹ کی ہے۔

پس منظر

خبر.پی کے نے 6 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ڈیموکریٹس نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوان اور سینیٹ دونوں جیت لیے۔ 5 نومبر کو یہ بھی رپورٹ کیا گیا کہ ٹرمپ نے مانا کہ ایران جنگ اور اس سے بڑھی ایندھن کی قیمتوں نے ریپبلکن شکست پر اثر ڈالا۔

یہ کیوں اہم ہے

ملر سخت امیگریشن پالیسی کے لیے جانے جاتے ہیں، جو امریکہ جانے کے خواہش مند پاکستانیوں کے ویزوں اور امیگریشن قواعد پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ان کی ترقی سے بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم کے معمار وائٹ ہاؤس عملے کی سربراہی کریں گے۔ امریکہ میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ، کارکن اور امیگریشن مقدمات والے خاندان پالیسی کی سمت پر نظر رکھیں گے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسٹیفن ملروائٹ ہاؤسامریکی سیاست

اس خبر پر مزید