ابھی ابھی
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

مریم نواز کے دورہ لندن کے اخراجات پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع

پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے ستمبر کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیلات مانگنے کے لیے تحریک التوا جمع کرائی گئی ہے۔ تحریک میں سرکاری طیارے کے استعمال اور 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے کی ادائیگی پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

مریم نواز کے دورہ لندن کے اخراجات پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع
تصویر: Kim_R_Hunter / Pixabay
اہم نکات
  • اپوزیشن رکن وقاص محمود نے وزیراعلیٰ کے دورہ لندن پر تحریک التوا جمع کرائی۔
  • بینک آف پنجاب کے چیک کے ذریعے 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوئے۔
  • حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ نے ذاتی خرچ کیا، اپوزیشن منظوریوں اور رقم کے ذریعے پر سوال اٹھا رہی ہے۔
2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے17 ستمبر کو جمع کی گئی رقم
تقریباً 70 ہزار ڈالرپائلٹوں کی مبینہ مجموعی ماہانہ تنخواہ
9 ستمبرلاہور واپسی

پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے ستمبر 2026 کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیلات طلب کرنے کے لیے تحریک التوا جمع کرائی گئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ تحریک اپوزیشن رکن وقاص محمود نے جمع کرائی۔

تحریک میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری طیارے کے استعمال اور سفری اخراجات کی تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق پرواز، اس کی لاگت اور متعلقہ انتظامی منظوریوں کی تفصیلی وضاحت بھی مانگی گئی ہے۔

تحریک کے مطابق 17 ستمبر 2026 کو سفری اخراجات کے لیے 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے جمع کرائے گئے۔ یہ رقم عمر عباس کے ذریعے بینک آف پنجاب کے چیک سے نیشنل بینک آف پاکستان کی لاہور میں ویلنشیا برانچ میں پنجاب حکومت کے خزانے کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق ڈپازٹ سلپ پر اکاؤنٹ کا عنوان زیڈ جی بی ایم آر اے درج تھا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق جس اکاؤنٹ سے رقم دی گئی اور اس کے مالک کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

ڈیلی پاکستان کے مطابق ادائیگی کا تعلق لندن سفر کے لیے طیارے کے ایندھن، پارکنگ اور آپریشنل اخراجات سے تھا۔ اس کے مطابق حتمی بل پہلے کے تقریباً 2 کروڑ 93 لاکھ روپے کے تخمینے سے کم ہو کر 2 کروڑ 72 لاکھ روپے رہ گیا۔

ڈیلی پاکستان کے مطابق مریم نواز ستمبر کے آغاز میں اپنی بیٹی ماہ نور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئیں اور 9 ستمبر کو لاہور واپس آئیں۔ صوبائی حکومت نے تسلیم کیا کہ انہوں نے سرکاری طیارہ، یعنی گلف اسٹریم جی 500، استعمال کیا جس کی مالیت مبینہ طور پر 9 سے 11 ارب روپے کے درمیان ہے، تاہم کہا کہ اخراجات وہ خود برداشت کریں گی۔

مریم نواز نے ملتان میں ایک عوامی تقریب میں کہا کہ انہوں نے سفر کے لیے تقریباً 2 کروڑ 75 لاکھ روپے خود ادا کیے۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ دورہ لندن مریم نواز کے ذاتی وسائل سے کیا گیا۔

اپوزیشن کا سوال ہے کہ کیا یہ کافی ہے۔ تحریک میں پوچھا گیا ہے کہ کیا وزیراعلیٰ اپنی ظاہر کردہ آمدن کے مطابق یہ سفر برداشت کر سکتی ہیں۔ اپوزیشن رکن مان نے طیارے کی منظوری کے قانونی و انتظامی جواز، استعمال شدہ بجٹ اور پرواز کی منظوری دینے والے افسران کی وضاحت مانگی۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور دیگر نے ادائیگی کی دستاویزات کی شیئر کی گئی نقول میں نامکمل معلومات پر تحفظات ظاہر کیے۔

تحریک میں طیارے کے دو غیر ملکی پائلٹوں کا بھی ذکر ہے جن کی مجموعی ماہانہ تنخواہ ڈیلی پاکستان کے مطابق میڈیا تحقیقات میں تقریباً 70 ہزار ڈالر بتائی گئی ہے۔ تحریک میں سرکاری وسائل کے استعمال، مالی نظم و ضبط اور قومی خزانے کے تحفظ پر فوری بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ معاملہ صوبائی حکومت کے طیارے اور سرکاری رقم کے استعمال سے متعلق ہے جو پنجاب کے ٹیکس دہندگان کو متاثر کرتا ہے۔ طیارے کی مالیت مبینہ طور پر 9 سے 11 ارب روپے ہے جبکہ دو پائلٹوں کی مجموعی ماہانہ تنخواہ تقریباً 70 ہزار ڈالر بتائی گئی ہے۔ قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ کیا وزیراعلیٰ کے نجی سفر کے لیے سرکاری طیارہ اور فنڈز استعمال ہوئے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پنجاب اسمبلیمریم نواز

اس خبر پر مزید