ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا7 ذرائع سے تصدیق شدہ

امریکی وسط مدتی انتخابات میں دو دن باقی، قومی سرویز میں ڈیموکریٹس آگے

امریکی ووٹر منگل 3 نومبر کو ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور گورنرز کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ قومی سرویز میں ڈیموکریٹس آگے ہیں، تاہم سینیٹ کے کئی کانٹے دار مقابلے کانگریس کا کنٹرول طے کر سکتے ہیں۔

Photo: vote, sticker, i voted, election
Photo: vote, sticker, i voted, election تصویر: JillWellington / Pixabay
اہم نکات
  • منگل کو ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔
  • ریئل کلیئر پولنگ کی اوسط میں ڈیموکریٹس 51.5 فیصد اور ریپبلکنز 43.1 فیصد پر ہیں۔
  • سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 اور ایوانِ نمائندگان میں 218 کے مقابلے میں 214 کی اکثریت حاصل ہے۔
ڈیموکریٹس 51.5 فیصد، ریپبلکنز 43.1 فیصدریئل کلیئر پولنگ اوسط
ریپبلکنز 53-47سینیٹ میں اکثریت
ریپبلکنز 218-214ایوانِ نمائندگان میں اکثریت
11.6 ارب ڈالرسیاسی اشتہارات پر اخراجات

امریکا میں وسط مدتی انتخابات منگل 3 نومبر 2026 کو ہو رہے ہیں۔ ووٹر ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے اراکین کے ساتھ 50 میں سے 36 ریاستوں میں گورنر بھی منتخب کریں گے۔ قبل از وقت ووٹنگ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔

قومی سرویز میں ڈیموکریٹس ریپبلکنز سے آگے ہیں۔ ریئل کلیئر پولنگ کی تازہ اوسط کے مطابق ان کی حمایت 51.5 فیصد اور ریپبلکنز کی 43.1 فیصد ہے۔ 28 اور 29 اکتوبر کے ایک سروے میں ڈیموکریٹس 54 فیصد اور ریپبلکنز 41 فیصد پر تھے، جبکہ 24 سے 26 اکتوبر کے ایمرسن کالج کے سروے میں ڈیموکریٹس کو 10 پوائنٹ کی برتری ملی۔ الجزیرہ کے مطابق سینیٹ کے کئی سخت مقابلے کانگریس کا کنٹرول طے کر سکتے ہیں۔

سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 کی اکثریت حاصل ہے اور ڈیموکریٹس کو کنٹرول کے لیے خالص چار نشستیں چاہئیں۔ ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی اکثریت 218 کے مقابلے میں 214 ہے، دو نشستیں خالی ہیں اور ایک آزاد رکن ریپبلکنز کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ وہاں بھی ڈیموکریٹس کو خالص چار نشستیں درکار ہیں۔ انڈیپنڈنٹ کے مطابق مین، اوہائیو، شمالی کیرولائنا، آئیووا اور جارجیا سمیت سینیٹ کے دس مقابلے نتیجہ طے کر سکتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق مہنگائی انتخابی مہم کا مرکزی موضوع ہے، جسے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے مزید بڑھایا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اور پولسٹر نیٹلی جیکسن نے کہا: "سروے ڈیموکریٹس کے لیے خاصا سازگار ماحول ظاہر کرتے ہیں۔ صدر بہت غیر مقبول ہیں، امریکی بلند اخراجات کا بوجھ محسوس کر رہے ہیں جس کی ایک وجہ ٹیرف اور ایران کی جنگ ہے، اور عمومی تاثر یہ ہے کہ ریپبلکنز نے پچھلے دو برسوں میں کارکردگی نہیں دکھائی۔" (انگریزی سے ترجمہ) رائٹرز/اپسوس کے ستمبر کے سروے میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری 32 فیصد رہی، جو اب تک کی کم ترین سطح ہے۔

ڈیموکریٹ حکمتِ عملی ساز اور پولسٹر سیلنڈا لیک نے کہا: "ڈیموکریٹس کے بارے میں بھی جذبات منفی ہیں، جو مثال کے طور پر 2018 سے بہت مختلف ہے، جب ڈیموکریٹس کو مثبت نظر سے دیکھا جاتا تھا۔" (انگریزی سے ترجمہ)

دونوں جماعتیں آخری کوشش کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ، جنہوں نے پہلے آئیووا اور کینساس کے دورے منسوخ کیے اور جمعے کو فیصلہ بدل دیا، اتوار کو ان دونوں ریاستوں میں مہم چلائیں گے۔ آئیووا میں وہ ریپبلکن رکنِ کانگریس ایشلے کے ساتھ ہوں گے جن کا سینیٹ کی دوڑ میں ڈیموکریٹ جوش turek سے مقابلہ ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید، جنہیں اسلام دشمن حملوں میں اضافے کا سامنا رہا، مشی گن کے شہروں ڈیٹرائٹ اور ساؤتھ فیلڈ میں تقریبات کریں گے اور ریپبلکن مائیک راجرز کو ہرانے کی کوشش کریں گے۔

کینساس میں واشنگٹن پوسٹ-شار اسکول کے سروے میں ڈیموکریٹ ایڈم ہیملٹن ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل سے 52 کے مقابلے میں 43 فیصد سے آگے ہیں، جبکہ ایمرسن کے سروے میں یہ فرق 50 اور 47 فیصد کا ہے۔ ریپبلکن حکمتِ عملی ساز ڈوگ ہے نے نو پوائنٹ کی برتری پر سوال اٹھایا اور یاد دلایا کہ 2024 سے پہلے آئیووا کے ایک سروے میں کمالا ہیرس آگے تھیں، مگر ٹرمپ نے وہ ریاست تقریباً 13 پوائنٹ سے جیتی۔ کینساس نے 1932 کے بعد کسی ڈیموکریٹ کو سینیٹ کے لیے منتخب نہیں کیا۔

اخراجات ریکارڈ سطح پر ہیں۔ ایڈ امپیکٹ کے مطابق 30 اکتوبر تک 2025-26 کے انتخابی دور میں سیاسی اشتہارات پر 11.6 ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔ اگر ٹرن آؤٹ 2022 کے برابر رہا تو 10 کروڑ سے زیادہ افراد ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس ایوان جیتیں تو نیویارک کے حکیم جیفریز کے اسپیکر بننے کا امکان ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان ڈیسک نے یہ خبر اس لیے چنی کہ انتخابی نتیجہ خطے سے متعلق واشنگٹن کی پالیسی پر اثر ڈالے گا، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

امریکی وسط مدتی انتخاباتڈیموکریٹسریپبلکنز

اس خبر پر مزید