ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
صحت8 ذرائع سے تصدیق شدہ

ضلع خیبر سے رواں سال کا آٹھواں پولیو کیس رپورٹ، نیشنل ای او سی

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق رواں برس کا آٹھواں پولیو کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے سامنے آیا ہے۔ 2 نومبر سے 97 اضلاع میں خصوصی انسداد پولیو مہم شروع ہو رہی ہے۔

Photo: vaccination, impfspritze, medicine, doctor
Photo: vaccination, impfspritze, medicine, doctor تصویر: whitesession / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اہم نکات
  • رواں سال کا آٹھواں پولیو کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا
  • ای او سی کے مطابق 8 میں سے 6 کیس خیبر پختونخوا اور 2 سندھ سے ہیں
  • مہم 2 سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں چلے گی، 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے
8رواں سال پولیو کیسز
97مہم کے اضلاع
2 کروڑ 40 لاکھ سے زائدپانچ سال سے کم عمر بچے
2 سے 8 نومبرمہم کی تاریخیں

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق پاکستان میں رواں سال کا آٹھواں پولیو کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سامنے آیا ہے۔

ادارے کے مطابق آٹھ میں سے چھ کیس خیبر پختونخوا اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق حالیہ کیس ضلع خیبر کی 13 ماہ کی بچی کا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون نے بتایا کہ بچی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جان باز کی رہائشی ہے۔ اخبار کے مطابق ضلع خیبر سے اس سال یہ دوسرا اور صوبے سے چھٹا کیس ہے۔ اس رپورٹ میں اسے ملک کا ساتواں کیس بتایا گیا، جبکہ دیگر اداروں نے ای او سی کے حوالے سے کل تعداد آٹھ بتائی ہے۔

ملک کے 97 منتخب اضلاع میں پیر 2 نومبر سے خصوصی سب نیشنل انسداد پولیو مہم شروع ہو گی جو 8 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ان اضلاع میں کراچی کے تمام اضلاع شامل ہیں۔

مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ ای او سی نے والدین سے کہا ہے کہ ہر مہم میں بچوں کو قطرے پلوائیں اور معمول کے حفاظتی ٹیکے بروقت مکمل کروائیں۔

ای او سی کے مطابق پاکستان نے پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی کی ہے۔ اندازاً کیسز کی تعداد 1990 کی دہائی کے اوائل میں تقریباً 20 ہزار تھی جو 2025 میں کم ہو کر 31 رہ گئی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس سال چار بڑی انسداد پولیو مہمات چلائی گئیں جن کا ہدف 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے تھے۔ ای او سی کے مطابق ستمبر کی سب نیشنل مہم میں 2 کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پولیو لاعلاج ہے مگر ویکسین سے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پولیو بچوں کی صحت کے لیے خطرہ ہے اور 2 نومبر سے شروع ہونے والی مہم میں 97 اضلاع کے والدین سے بچوں کو قطرے پلوانے کی اپیل کی گئی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پولیوخیبر پختونخواویکسینیشن

اس خبر پر مزید