کابینہ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو پر جے آئی ٹی رپورٹ منظور کر لی، کارروائی کا حکم
وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے منصوبے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں بے قاعدگیوں سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ منظور کر لی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا اور نیب ذمہ داروں کی تحقیقات کرے گا۔

- کابینہ نے بدھ کو جے آئی ٹی رپورٹ منظور کی۔
- رپورٹ میں عمارت کی دوبارہ نیلامی اور نام کی تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے۔
- طلال چوہدری کے مطابق نیب کو ریفرنس دائر کرنے کے لیے تین ماہ دیے گئے ہیں۔
- احسن اقبال نے کہا کہ متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بدھ کو کہا کہ وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے منصوبے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں مبینہ بے قاعدگیوں سے متعلق جے آئی ٹی کی رپورٹ منظور کر لی ہے۔ وہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزیر اعظم نے فراڈ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی تھی۔ ان کے مطابق منصوبے کے نام پر فراڈ کیا گیا اور سی ڈی اے نے بے قاعدگیوں سے نمٹنے میں کوتاہی برتی۔ انہوں نے کہا کہ تمام قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا، اور منصوبے سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ میں عمارت کی دوبارہ نیلامی اور اسے نیا نام دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ نام مبینہ طور پر فراڈ سے حاصل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق نیلامی کا عمل مینیپولیٹ کیا گیا، کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے قواعد میں نرمی کی گئی، اور منصوبے کے کاغذات مشکوک اور جعلسازی پر مبنی تھے۔
رپورٹ میں سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے اور ان کی کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذمہ داروں میں ڈاکٹر فیصل کامران، رائے نواز کھرل، کامران لاشاری، اظہر چوہدری اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر نصراللہ کے نام بھی شامل ہیں، ساتھ ہی سی ڈی اے کے بعض افسران بھی۔ رپورٹ کے مطابق بینک گارنٹی کی شرط ختم کی گئی، اور منصوبے کو فائیو اسٹار ہوٹل کے طور پر منظور کرانے کے بعد اپارٹمنٹس غیر قانونی طور پر فروخت کیے گئے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ نیب کو ذمہ داروں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے تین ماہ دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق عبدالحفیظ شیخ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو سات آٹھ افراد اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے انکوائری میں پیش نہیں ہوئے ان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی شامل ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ لوگوں کے ساتھ فراڈ دوسروں کی سہولت کاری کی وجہ سے ہوا اور جن کے ساتھ فراڈ ہوا وہ قصوروار نہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنے نتائج نیب کو مزید تحقیقات کے لیے بھیجنے کی سفارش کی ہے اور نیب میرٹ پر معاملے کی چھان بین کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانون کا یکساں اطلاق یقینی بنائے گی اور حقیقی سرمایہ کاروں کا تحفظ کیا جائے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا اور نیب سی ڈی اے سمیت غیر قانونی کاموں میں ملوث ہر شخص کے خلاف کارروائی کرے گا۔
احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو کی پہلی عمارت وزارت خارجہ کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پتہ منصوبے کو صرف مارکیٹنگ کے لیے دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے چوہدری نثار اور ان کے ادوار میں بھی تحقیقات جاری رکھیں۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 5 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قانونی طور پر قبضہ لے لیا ہے اور آنے والے مہینوں میں اسے فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کا منصوبہ ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق کابینہ نے منصوبے میں بے قاعدگیاں پکڑنے والی جے آئی ٹی رپورٹ منظور کی تھی۔
یہ کیوں اہم ہے
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں اپارٹمنٹ خریدنے والے براہ راست متاثر ہیں، کیونکہ حکومت کے مطابق متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا اور حقیقی سرمایہ کاروں کا تحفظ ہوگا۔ عمارت کی دوبارہ نیلامی اور نام کی تبدیلی کی سفارش سے منصوبے کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ وزیر نے بے قاعدگیوں کا ذمہ دار سی ڈی اے کی کوتاہی کو ٹھہرایا، اس لیے یہ معاملہ اسلام آباد کی دیگر ہاؤسنگ اسکیموں کے خریداروں کے لیے بھی اہم ہے۔



