ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا5 ذرائع سے تصدیق شدہ

تہران میں سعودی، ترک اور پاکستانی حکام کے ایران سے مذاکرات

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے سینئر حکام نے پیر کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی تاکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ لڑائی کو روکا جا سکے۔ ملاقات کے اختتام پر کوئی ٹھوس اعلان نہیں ہوا، تاہم ایران کے سکیورٹی سربراہ نے مذاکرات کو "بہت اچھا" قرار دیا۔

This is a photo of a monument in Iran identified by the ID
This is a photo of a monument in Iran identified by the ID تصویر: Laurens R. Krol / Wikimedia Commons, CC BY 4.0
اہم نکات
  • سعودی، ترک اور پاکستانی حکام نے پیر کو تہران میں ایرانی قیادت سے مذاکرات کیے۔
  • فرانس 24 کے مطابق اگست میں مکہ دفاعی اتحاد بننے کے بعد تینوں ممالک کا تہران کا یہ پہلا مشترکہ دورہ تھا۔
  • ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
8 ماہجنگ کا اب تک کا دورانیہ
اگستمکہ دفاعی اتحاد کی تشکیل

فرانس 24 کے مطابق سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے سینئر حکام نے پیر کو تہران میں مذاکرات کیے جن کا مقصد مشرق وسطیٰ کی جنگ کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنا تھا۔ ایران نے ان بات چیت کو "بہت اچھا" قرار دیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مکہ معاہدے کے تینوں ممالک کے حکام "موجودہ بحران کے فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے" کی کوششوں کے سلسلے میں ایران گئے۔ سعودی وفد کی قیادت وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کی۔ عرب نیوز کے مطابق انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔

فرانس 24 کے مطابق وفود نے پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ شہزادہ خالد، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے بھی ملاقات کی۔ اگست میں مکہ میں دفاعی اتحاد بننے کے بعد تینوں ممالک کا تہران کا یہ پہلا مشترکہ دورہ تھا۔

ملاقات کسی ٹھوس اعلان کے بغیر ختم ہوئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق رضائی نے کہا کہ خطے میں نئی فضا بن رہی ہے اور انہوں نے مذاکرات میں بہت مثبت ماحول محسوس کیا۔

رضائی کے مطابق شرکا اس پر متفق تھے کہ خطے کی سلامتی کا حصول خود ممالک کو کرنا چاہیے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان، جنوبی شام، غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے پر زور دیا گیا۔

یہ دورہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کی جانب سے آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں دوبارہ جھڑپوں کے انتباہ کے بعد ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ واشنگٹن "ایک اور چھوٹا ایپک فیوری" کر سکتا ہے، جس سے مراد 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی مہم ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ منگل کے اسرائیلی انتخابات میں خلل ڈالنے کے لیے ایران اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کے اشارے ملے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے قاہرہ میں کہا کہ کشیدگی روکنا ضروری ہے۔ فرانس 24 کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی قیادت قطر اور پاکستان کر رہے ہیں، اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق قطری وفد اتوار کو تہران گیا تھا۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان کے آرمی چیف تہران مذاکرات میں شریک تھے اور پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے، اس لیے نتائج کا تعلق پاکستان کے قریب علاقائی سلامتی اور خلیجی ممالک سے تعلقات سے ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانسعودی عربپاکستان

اس خبر پر مزید