ملیحہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف میں کانسی کا تمغہ جیت لیا، فیڈریشن کی اپیل
پاکستان کی ملیحہ علی نے تبلیسی میں آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں روس کی پولینا بالدینا سے سیمی فائنل اسپلٹ فیصلے سے ہارنے کے بعد کانسی کا تمغہ جیتا۔ پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن نے نتیجے کے خلاف اپیل کر دی ہے۔

- ملیحہ علی نے جارجیا کے شہر تبلیسی میں آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔
- وہ فیدر ویٹ سیمی فائنل میں پولینا بالدینا سے اسپلٹ فیصلے پر ہار گئیں۔
- پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن نے آئی ایم ایم اے ایف میں باضابطہ اپیل کی ہے جو زیر التوا ہے۔
منٹ مرر کے مطابق پاکستان کی مکسڈ مارشل آرٹس فائٹر ملیحہ علی نے جارجیا کے شہر تبلیسی میں آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ جمعرات کو فیدر ویٹ (65.8 کلوگرام) سیمی فائنل میں روس کی پولینا بالدینا کے خلاف اسپلٹ فیصلے میں شکست کے ساتھ ان کی مہم ختم ہوئی۔
دی نیشن اسپورٹس اور ڈیلی پاکستان اردو کی ابتدائی رپورٹس میں انہیں فائنل میں پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون بتایا گیا تھا، جب انہوں نے پین امریکن چیمپئن میکسیکو کی اینڈریا گیبریلا گزمین کو ہرایا۔ منٹ مرر کی بعد کی رپورٹ کے مطابق ان کا سفر سیمی فائنل میں ختم ہوا اور انہیں کانسی ملا۔
منٹ مرر کے مطابق منگل کو انہوں نے روس کی ویرونیکا دروزدووا کو اسپلٹ فیصلے سے اور پھر گزمین سالازار کو متفقہ فیصلے سے شکست دی۔ ڈیلی پاکستان اردو نے لکھا کہ وہ اس سے پہلے ایک روسی یورپی چیمپئن کو بھی ہرا چکی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ملیحہ پاؤں کے انگوٹھے کے فریکچر، آنکھ کے پپوٹے پر شدید چوٹ اور جزوی طور پر اتری ہوئی جبڑے کی ہڈی کے باوجود لڑیں۔ سیمی فائنل میں ایک جج نے تینوں راؤنڈ بالدینا کے حق میں 30-27 دیے، دوسرے نے ملیحہ کو 29-28 سے آگے رکھا اور تیسرے نے بالدینا کو 29-28 سے۔
رپورٹ کے مطابق بالدینا 23 سال کی ہیں، ایک اور ایم ایم اے فیڈریشن کی سابق عالمی چیمپئن ہیں اور فائنل تک مسلسل تین مقابلے جیت چکی ہیں۔
پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن نے نتیجے کو باضابطہ چیلنج کرتے ہوئے آئی ایم ایم اے ایف میں اپیل دائر کی ہے۔ فیڈریشن کے صدر عمر احمد نے کہا کہ ملیحہ کو حقدار فتح سے محروم کیا گیا۔ فیڈریشن نے آئی ایم ایم اے ایف کے ریفرینگ اینڈ جَجنگ کمیشن کے سربراہ کو خط لکھ کر راؤنڈ بہ راؤنڈ اسکورنگ، متضاد اسکور کارڈز کی وضاحت اور آمنے سامنے تکنیکی جائزہ مانگا ہے۔
اپیل میں گزشتہ سال کی چیمپئن شپ میں پاکستان کی ایک اور اسپلٹ فیصلے والی سیمی فائنل شکست پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ عمر احمد نے الزام لگایا کہ آئی ایم ایم اے ایف کے ریفرینگ اور ججنگ ڈھانچوں میں سابق سوویت ریاستوں کو برتری حاصل ہے، اور کہا کہ روس کے پاس پاکستان سے زیادہ مالی اور انتظامی وسائل ہیں۔ اپیل زیر التوا ہے۔
ملیحہ کی جڑواں بہن مانیشا لائٹ ویٹ (70.3 کلوگرام) کوارٹر فائنل میں پولینڈ کی مارتینا کاروک سے معمولی اسپلٹ فیصلے پر ہار گئیں۔ وہ اس سے قبل انگولا میں آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ کپ میں سونے کا تمغہ جیت چکی ہیں۔ ملیحہ علی نے کہا، "سر، ہم دل سے لڑتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔
یہ کیوں اہم ہے
ملیحہ علی کا کانسی کا تمغہ مکسڈ مارشل آرٹس میں کسی پاکستانی خاتون کا عالمی سطح کا تمغہ ہے، جس کھیل کے شائقین پاکستان میں بڑھ رہے ہیں۔ فیڈریشن کی اپیل ابھی زیر التوا ہے، اور اسی سے طے ہوگا کہ آئی ایم ایم اے ایف سیمی فائنل کی اسکورنگ کی وضاحت یا جائزہ لیتی ہے یا نہیں۔



