کرم میں افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی ذرائع
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کرم کے شلوزان سیکٹر میں کالعدم فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ افغان طالبان کی فائرنگ پر پاکستانی فورسز نے بھاری ہتھیاروں سے جواب دیا۔

- جمعرات کو کرم کے شلوزان سیکٹر میں فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام
- سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گروہ کو روکنے پر افغان طالبان نے فائرنگ کی
- پاکستانی فورسز نے بھاری ہتھیاروں سے جواب دیا، افغان طالبان کی چوکیوں کو نقصان کی اطلاع
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جن کا حوالہ ریڈیو پاکستان اور دیگر اداروں نے دیا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جمعرات کو ضلع کرم کے شلوزان سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کوشش کالعدم فتنہ الخوارج کے ایک گروہ نے کی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے ریڈیو پاکستان کے حوالے سے بتایا کہ فوج نے اس گروہ کو سرحد پار کرنے سے روکنے کے لیے کارروائی کی۔
ذرائع کے مطابق اس کے بعد افغان طالبان نے بلااشتعال فائرنگ کی۔ پاکستانی فورسز نے فوری طور پر بھاری ہتھیاروں سے جواب دیا۔
انہی ذرائع کے مطابق دراندازی ناکام رہی اور جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی چوکیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ڈیلی ٹائمز نے گروہ کو بھاری ہتھیاروں سے لیس قرار دیا اور کہا کہ سرحدی محافظوں نے نقل و حرکت کا بروقت پتا لگا لیا۔ یہ تفصیلات سیکیورٹی ذرائع کی ہیں اور رپورٹس میں ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایکسپریس ٹریبیون نے حالیہ واقعات کا بھی ذکر کیا۔ یکم نومبر کو جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا کے قریب افغان چوکیوں کی فائرنگ پر سیکیورٹی فورسز نے جواب دیا اور افغان طالبان اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑ گئے۔ 30 اکتوبر کو فوج نے جنوبی وزیرستان اور پارا چنار سے ملحقہ علاقوں میں افغان طالبان کی کئی چوکیاں تباہ کیں۔
اسی رپورٹ کے مطابق 27 اکتوبر کو زیریں جنوبی وزیرستان کے انگور اڈا میں افغان طالبان کی فائرنگ سے سرحدی چوکیاں اور شہری علاقے متاثر ہوئے۔ مارٹر گولہ باری سے ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے، جس کے جواب میں پاکستان نے افغان طالبان کی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان لڑائی اکتوبر 2025 میں شروع ہوئی۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغان طالبان پاکستان پر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں، جبکہ کابل اس کی تردید کرتا ہے۔ فروری کے آخر کے قریب نئی جھڑپوں کے بعد آپریشن غضب للحق شروع کیا گیا۔
18 مارچ کو عیدالفطر کی شب ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کی درخواست پر ایک ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ اپریل میں چین کے شہر ارومچی میں مذاکرات کے دوران پاکستان نے مطالبہ کیا کہ کابل ٹی ٹی پی کو باضابطہ دہشت گرد تنظیم قرار دے، اس کا ڈھانچہ ختم کرے اور اس کا قابلِ تصدیق ثبوت دے۔
یہ کیوں اہم ہے
کرم اور جنوبی وزیرستان خیبر پختونخوا میں اسی سرحد کے قریب واقع ہیں جہاں یہ جھڑپیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ دراندازی کی کوششیں اور سرحد پار فائرنگ ملک کے شمال مغرب کی سلامتی اور سرحدی علاقوں کے شہریوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 27 اکتوبر کی گولہ باری میں ایک شہری جاں بحق اور ایک خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔



