اسرائیل میں ریکارڈ ووٹنگ، نیتن یاہو کے لیے امتحان قرار
اسرائیلی شہریوں نے منگل 27 اکتوبر کو 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد پہلے عام انتخابات میں ووٹ ڈالے۔ اناطولیہ کے مطابق سات گھنٹے بعد ٹرن آؤٹ 44.9 فیصد رہا، جو 1973 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

- اسرائیل میں منگل 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہوئے، جو 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد پہلے ہیں۔
- اناطولیہ کے مطابق سات گھنٹے بعد ٹرن آؤٹ 44.9 فیصد رہا اور 32 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ووٹ پڑے۔
- نیتن یاہو کا مقابلہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ سے سخت بتایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی شہریوں نے منگل 27 اکتوبر کو عام انتخابات میں ووٹ ڈالے، جنہیں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقتدار کے لیے امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق یہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں، جن کے نتیجے میں غزہ کی جنگ شروع ہوئی۔
اناطولیہ ایجنسی نے الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ سات گھنٹے کی پولنگ کے بعد ٹرن آؤٹ 44.9 فیصد رہا۔ دوپہر 2 بجے (1200 جی ایم ٹی) تک ملک بھر میں 32 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ووٹرز ووٹ ڈال چکے تھے۔ ایجنسی کے مطابق اس مرحلے پر یہ 1973 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس سے قبل فرانس 24 نے پولنگ شروع ہونے کے چار گھنٹے بعد ٹرن آؤٹ 16.7 فیصد بتایا تھا۔
فرانس 24 کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کو اپنا ووٹ ڈالا۔ چینل نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر کچھ ووٹرز نے ان کی مخالفت کا اظہار کیا۔ عرب نیوز کے مطابق انہیں سخت مقابلے اور غیر یقینی سیاسی مستقبل کا سامنا ہے۔
ڈی ڈبلیو نے مقابلے کو نیتن یاہو اور ان کے اہم حریف گادی آئزنکوٹ کے درمیان کانٹے کی ٹکر قرار دیا۔ آئزنکوٹ اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ہیں اور وسطی جماعت ”یاشر“ کے سربراہ ہیں، جسے ڈی ڈبلیو نے سب سے آگے رہنے والی جماعت کہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آن لائن پوسٹ میں نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہوئے انہیں ”جنگجو وزیراعظم“ کہا۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق انہوں نے لکھا کہ اگر نیتن یاہو کے سوا کوئی اور رہنما ہوا تو ایران کے معاملے میں امریکہ کو خود کام کرنا پڑے گا اور وہ ایسا کرنے کے خواہش مند نہیں۔
ایران کے ساتھ تنازع بھی انتخابات پر چھایا رہا۔ ڈی ڈبلیو نے فنانشل ٹائمز کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوج تقریباً 10 اکتوبر کو ایران پر نئے حملوں کا ارادہ رکھتی تھی، مگر ٹرمپ نے 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے کشیدگی بڑھانے کی مخالفت کی۔ یروشلم پوسٹ نے بعد میں رپورٹ کیا کہ فوج کو ایسی کسی کارروائی کی مخصوص ہدایت نہیں ملی تھی۔
انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے رز زمت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایرانی خطرے کے بارے میں اسرائیلی دھڑوں کے درمیان فرق معمولی ہے اور کسی بھی کشیدگی کا انحصار اسرائیلی وزیراعظم سے زیادہ امریکی صدر کے فیصلے پر ہے۔ ان کے ساتھی ڈینی سیٹرینووچ نے بھی ایران پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی توقع نہیں ظاہر کی۔
یہ کیوں اہم ہے
اسرائیل کی حکومت غزہ اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازع پر اثر انداز ہوتی ہے، جسے پاکستانی قریب سے دیکھتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی رپورٹ میں ایران سے متعلق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا بھی ذکر ہے۔


