اسرائیل انتخابات: کوئی واضح فاتح نہیں، نیتن یاہو اور آئزنکوٹ اکثریت سے دور
تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نیتن یاہو کا اتحاد 53 نشستوں کے ساتھ آگے ہے، مگر کسی کے پاس 61 نشستیں نہیں ہیں۔ نیتن یاہو اور ان کے حریف گادی آئزنکوٹ دونوں نے مینڈیٹ کا دعویٰ کیا ہے۔

- ڈی ڈبلیو اور فرانس 24 کے مطابق 90 فیصد گنتی پر لیکود کی قیادت والے اتحاد کی 53 نشستیں ہیں
- فرانس 24 کے مطابق آئزنکوٹ کے اتحاد کی 48 اور عرب اکثریتی جماعتوں کی 19 نشستیں ہیں
- 120 رکنی کنیسٹ میں اکثریت کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں
- ڈی ڈبلیو کے مطابق حتمی سرکاری نتائج 4 نومبر کو جاری ہوں گے
اسرائیل کے انتخابات میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا۔ ڈی ڈبلیو اور فرانس 24 کے مطابق تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا لیکود کی قیادت والا اتحاد 53 نشستوں کے ساتھ آگے ہے۔ 120 رکنی کنیسٹ میں اکثریت کے لیے 61 نشستیں چاہئیں اور کسی فریق کے وہاں پہنچنے کی توقع نہیں۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق گادی آئزنکوٹ کی جماعت یشار کی قیادت میں نیتن یاہو مخالف اتحاد کے پاس 48 نشستیں ہیں۔ فرانس 24 کے مطابق اپوزیشن کی مجموعی نشستیں 67 ہیں، یعنی آئزنکوٹ کے وسط پسند اتحاد کی 48 اور عرب اکثریتی جماعتوں کی 19۔ فرانس 24 نے لکھا کہ دو عرب اکثریتی جماعتیں تاریخی کامیابی کی جانب ہیں۔
ووٹروں کی شرکت کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ رہی۔ انادولو کے مطابق یہ 1999 کے بعد سب سے بلند شرح ہے اور تقریباً 57 لاکھ ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔ فرانس 24 کے مطابق 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں نیتن یاہو کے اتحاد کی نشستیں نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں۔
گنتی مکمل نہیں ہوئی۔ سینٹرل الیکشن کمیشن کے مطابق جمعرات کی صبح ڈبل لفافہ بیلٹس کی گنتی شروع ہوئی۔ یہ ووٹ زیادہ تر فوجی، قیدی اور بیرون ملک تعینات سفارت کار ڈالتے ہیں، نیز وہ لوگ جو اپنے مقررہ پولنگ اسٹیشن پر ووٹ نہیں دے سکتے۔ کمیشن کا اندازہ 4,30,000 سے 4,80,000 ایسے بیلٹس کا ہے، جو پہلے کے تقریباً 6 لاکھ کے اندازے سے کم ہے۔ یہ کل ووٹوں کے 10 فیصد سے کچھ کم ہیں اور نشستوں کی تقسیم پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق مکمل گنتی جمعرات کی دوپہر تک متوقع ہے جبکہ سرکاری حتمی نتائج 4 نومبر کو جاری ہوں گے۔
گلف نیوز اور الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں نے مینڈیٹ کا دعویٰ کیا ہے۔ کئی اداروں کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ آیا آئزنکوٹ کا اتحاد عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنائے گا۔ فرانس 24 کے مطابق اسرائیلی صدر نے جماعتوں سے کہا کہ حکومت بنانے کے لیے "سب کچھ" کریں تاکہ دوبارہ انتخابات سے بچا جا سکے۔ عرب نیوز کے مطابق نیتن یاہو نگران وزیراعظم رہیں گے۔
الجزیرہ کے مطابق غیر یقینی صورتحال پر تل ابیب 125 انڈیکس 2 فیصد سے زیادہ گر گیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اگلی حکومت "change course massively"، یعنی پالیسی میں بڑی تبدیلی لائے گی۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ نئی حکومت فلسطینی ریاست یا لبنان اور شام میں اسرائیلی فوج کے معاملے پر بڑی تبدیلی نہیں لائے گی۔ عرب نیوز کے مطابق حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے کہا کہ انہیں پروا نہیں کہ اسرائیل پر کون حکومت کرتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
اسرائیل کی اگلی حکومت مشرق وسطیٰ کے تنازع اور علاقائی سفارت کاری پر اثر ڈالے گی، جس پر پاکستان گہری نظر رکھتا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق ماہرین فلسطینی ریاست اور لبنان و شام کے معاملے پر بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے۔


