ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا10 ذرائع سے تصدیق شدہ

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا بلاک آگے مگر اکثریت سے محروم

اسرائیل کی گنتی میں وزیراعظم نیتن یاہو کا لیکود کی قیادت والا بلاک 53 نشستوں کے ساتھ آگے ہے، مگر 61 کی حد سے دور ہے۔ مخالف بلاک کے پاس 48 نشستیں ہیں اور مخلوط حکومت کے مذاکرات مشکل متوقع ہیں۔

Knesset building
Knesset building تصویر: Suicasmo / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • 120 رکنی کنیسٹ میں نیتن یاہو کے بلاک کی 53 اور مخالف بلاک کی 48 نشستیں ہیں۔
  • دو عرب جماعتیں مجموعی طور پر 19 نشستوں کے ساتھ نیا ریکارڈ بنانے جا رہی ہیں۔
  • حتمی سرکاری نتائج 4 نومبر سے پہلے جاری نہیں ہوں گے۔
53نیتن یاہو بلاک کی نشستیں
48اپوزیشن بلاک کی نشستیں
61اکثریت کے لیے درکار نشستیں
19عرب جماعتوں کی مجموعی نشستیں

اسرائیلی انتخابات کی گنتی میں بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود کی قیادت والا بلاک حریفوں سے آگے ہے، مگر حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق تقریباً 99 فیصد ووٹوں کی گنتی تک نیتن یاہو کے بلاک کے پاس 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں تھیں۔ یشار پارٹی کے سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن بلاک کے پاس 48 نشستیں تھیں۔ محفوظ اکثریت کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق کسی بھی بلاک کے واضح اکثریت حاصل کرنے کی توقع نہیں اور آنے والے ہفتوں میں مخلوط حکومت کے مذاکرات مشکل ہوں گے۔ ٹرن آؤٹ دہائیوں میں سب سے زیادہ رہا۔

ڈی ڈبلیو نے مرکزی الیکشن کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ دونوں بڑی عرب جماعتوں، یونائیٹڈ عرب لسٹ (راعم) اور جوائنٹ لسٹ، کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملتی نظر آ رہی ہیں، جو ان کی پچھلی بہترین 15 نشستوں سے زیادہ ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اہل فلسطینی ووٹروں میں سے اندازاً 80 فیصد نے ووٹ ڈالا۔ فلسطینی شہری اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 21 فیصد ہیں۔

نیتن یاہو نے اکثریت کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لپید نے انتخابی رات فلسطینی جماعتوں کے ساتھ حکومت میں بیٹھنے سے انکار کیا۔ یسرائیل بیتینو کے سربراہ اویگدور لیبرمین نے جمعرات کو ان کے ساتھ اتحاد کو مسترد کیا۔ الجزیرہ کے مطابق بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اپوزیشن کی وہ جماعت ہے جس کے ان کے ساتھ تعاون کا امکان زیادہ ہے۔

لیکود نے قطر اور ترکی کی قیادت میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی مداخلت کا الزام لگایا اور شن بیت سے فلسطینی ٹرن آؤٹ میں ممکنہ بیرونی مداخلت کی تحقیقات کا کہا۔ اسرائیلی پولیس نے کہا کہ ان دعووں کے ثبوت نہیں ہیں۔ الیکشن کمیٹی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے الزامات مسترد کیے اور کمیٹی نے کہا کہ انتخابی سالمیت کی منظم خلاف ورزیوں کے الزامات کی کوئی بنیاد نہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ شواہد پولیس، شن بیت اور مرکزی الیکشن کمیٹی کو دیے جائیں گے۔

قطر نے کہا کہ وہ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت یا نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے کسی سرگرمی کی مالی معاونت کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ راعم کے سربراہ منصور عباس نے مداخلت کی کسی بھی تحقیقات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ان کی جماعت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

غیر حاضر ووٹروں کے ڈبل لفافہ بیلٹس کی گنتی جمعرات کی صبح شروع ہوئی۔ یہ مجموعی ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد ہیں، مگر ڈی ڈبلیو کے مطابق ان سے نتائج پر نمایاں اثر متوقع نہیں۔ کمیٹی کو 4 لاکھ 30 ہزار سے 4 لاکھ 80 ہزار ایسے بیلٹس کی توقع ہے، جو پہلے کے تقریباً 6 لاکھ کے اندازے سے کم ہے۔ مکمل گنتی جمعرات دوپہر تک متوقع تھی، جبکہ حتمی سرکاری نتائج 4 نومبر تک جاری نہیں ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے امید ظاہر کی کہ اگلی اسرائیلی حکومت بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہوئے "change course massively" کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں حالیہ اسرائیلی کارروائی غیر ضروری اور غیر متناسب اقدامات کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

اس نتیجے سے مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری اور غزہ و ایران کے بحرانوں پر اثر پڑے گا، جنہیں پاکستانی قریب سے دیکھتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسرائیلنیتن یاہواسرائیلی انتخابات

اس خبر پر مزید