ابھی ابھی
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

روہنگیا نسل کشی کیس: عالمی عدالت انصاف 19 نومبر کو فیصلہ سنائے گی

عالمی عدالت انصاف 19 نومبر کو فیصلہ سنائے گی کہ میانمار کی روہنگیا کے خلاف کارروائی نسل کشی تھی یا نہیں۔ یہ مقدمہ گیمبیا نے 2019 میں دائر کیا تھا۔

Rohingya Refugee Camp 26, Teknaf, Cox's Bazar, Bangladesh. Photo taken from the front side of CIC office of camp 26.
Rohingya Refugee Camp 26, Teknaf, Cox's Bazar, Bangladesh. Photo taken from the front side of CIC office of camp 26. تصویر: Rocky Masum / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • عالمی عدالت انصاف 19 نومبر کو ہیگ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے فیصلہ سنائے گی۔
  • گیمبیا کا الزام ہے کہ میانمار نے 1948 کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کی۔
  • میانمار نسل کشی کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے مسلح شورش کا جواب دیا۔
19 نومبرفیصلے کی تاریخ
2019مقدمہ دائر ہونے کا سال
7 لاکھ سے زائد2017 میں فرار ہونے والے روہنگیا
10 لاکھ سے زیادہبنگلہ دیش میں موجود روہنگیا

اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت، عالمی عدالت انصاف، 19 نومبر کو فیصلہ سنائے گی کہ میانمار کی اپنی اکثریتی مسلم روہنگیا اقلیت کے خلاف کارروائی نسل کشی کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔ حکام نے منگل کو فیصلے کی تاریخ کا اعلان کیا۔

اناطولیہ ایجنسی کے مطابق فیصلہ نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سنایا جائے گا۔

یہ مقدمہ گیمبیا نے 2019 میں دائر کیا تھا۔ اس میں الزام ہے کہ میانمار نے روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران 1948 کے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی۔ اناطولیہ کے مطابق کارروائی میں 11 ممالک فریق کے طور پر شامل ہوئے۔ ججز سات سال سے ان الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

میانمار نسل کشی کے الزام کی تردید کرتا ہے۔ گلف نیوز کے مطابق اس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی مسلح باغیوں کی بغاوت کے خلاف تھی، جس کے حملوں میں ایک درجن سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

میانمار کی فوج اور بدھ ملیشیاؤں کی کارروائی کے باعث لاکھوں روہنگیا کو بنگلہ دیش کی طرف نقل مکانی کرنا پڑی۔ اناطولیہ کے مطابق اگست 2017 کے فوجی کریک ڈاؤن کے بعد 7 لاکھ سے زائد روہنگیا راکھین سے فرار ہوئے، زیادہ تر بنگلہ دیش گئے۔ گلف نیوز کے مطابق 10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا اب بھی بنگلہ دیش میں دنیا کی سب سے بڑی پناہ گزین بستی میں رہتے ہیں۔

روہنگیا بے وطن مسلم اقلیت ہیں جو میانمار میں دہائیوں سے امتیازی سلوک اور بے دخلی کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ اقوام متحدہ انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ستائی گئی اقلیت قرار دے چکا ہے۔ اناطولیہ کے مطابق اونٹاریو انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا کہ میانمار کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہزاروں افراد مارے گئے۔

عالمی عدالت انصاف اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کا اختیار نہیں رکھتی۔ گلف نیوز کے مطابق قانونی ماہرین اس فیصلے کو دیکھ رہے ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ غزہ پر اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے مقدمے میں عدالت کیا رخ اختیار کر سکتی ہے۔ اناطولیہ کے مطابق روہنگیا برادری کے ارکان نے گیمبیا کے مقدمہ لانے کے فیصلے کو تاریخی کامیابی قرار دیا۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ مقدمہ ایک مسلم اقلیت سے متعلق ہے جس کے حالات پر پاکستان کے لوگ گہری نظر رکھتے ہیں۔ قانونی ماہرین اسے غزہ سے متعلق نسل کشی کے مقدمے کے لیے بھی اشارہ سمجھ رہے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

روہنگیامیانمارعالمی عدالت انصاف

اس خبر پر مزید