ابھی ابھی
پاکستان1 ذرائع سے تصدیق شدہ

آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں میں پس منظر کی جانچ کے چھ اصول جاری کر دیے

وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں میں مجرمانہ پس منظر دیکھنے کے چھ اصول جاری کیے ہیں۔ عدالت نے بری ہونے کے باوجود بھرتی سے محروم کیے گئے ڈرائیور کانسٹیبل کے امیدوار کو بحال کر دیا۔

Photo: office, meeting, woman, laptop
Photo: office, meeting, woman, laptop تصویر: erwinbosman / Pixabay
اہم نکات
  • عدالت کے مطابق محض ایف آئی آر درج ہونا خود بخود سرکاری ملازمت سے نااہلی نہیں۔
  • بریت کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جائے گا۔
  • امیدوار میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن پر بحال، 30 دن میں تعیناتی کا حکم۔
6جاری کردہ اصول
30 دنتعیناتی کے آرڈر کی مہلت
2018بریت کا سال

وفاقی آئینی عدالت نے تحریری فیصلے میں سرکاری بھرتیوں کے دوران مجرمانہ پس منظر کی جانچ کے لیے چھ آئینی اصول طے کیے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے جاری کیا۔

یہ معاملہ ہائیکورٹ کے ملتان بینچ کے 22 مئی 2025 کے فیصلے کے خلاف اپیل سے شروع ہوا۔ درخواست گزار عبداللطیف ڈرائیور کانسٹیبل کی میرٹ لسٹ میں دوسرے نمبر پر تھے۔

انہیں 2018 میں ایک مقدمے سے بری کیا جا چکا تھا۔ بریت اور صاف پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے باوجود محکمے نے بھرتی سے انکار کیا۔ ان کی نمائندگی مسترد ہوئی اور ہائیکورٹ نے رٹ اور انٹرا کورٹ اپیل بھی خارج کر دی۔

وفاقی آئینی عدالت نے انہیں نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن کے مطابق ان کی امیدواری بحال کی جائے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ 30 دنوں کے اندر طبی معائنہ اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کر کے تعیناتی کا آرڈر جاری کیا جائے۔

اصولوں کے بارے میں عدالت نے کہا کہ صرف ایف آئی آر کا اندراج خود بخود سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں بنے گا۔ بریت کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جائے گا، جبکہ زیرِ سماعت مقدمات کا ذکر صرف زیرِ سماعت ہونے کی حد تک ہوگا۔

عدالت کے مطابق کسی امیدوار کو سنوائی کا موقع دیے بغیر اور معقول وجوہات کے بغیر عام طور پر بھرتی سے خارج نہیں کیا جائے گا۔ ڈی جی خان پولیس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ کو بغیر ٹھوس وجہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

عدالت کے مطابق بریت کے باوجود بھرتی پر پابندی غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے منافی ہے، اور بریت کے بعد محض شبہے پر انتظامیہ فیصلہ نہیں کر سکتی۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ اصول طے کریں گے کہ سرکاری ملازمت کے امیدواروں کی جانچ کیسے ہوگی، بشمول وہ امیدوار جو بری ہو چکے ہوں یا جن کے مقدمات زیرِ سماعت ہوں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

آئینی عدالتسرکاری ملازمتیںپولیس بھرتی

اس خبر پر مزید