ٹرمپ: امریکا اس سال کے بعد اسرائیل کو 4 ارب ڈالر کی امداد روک دے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ طے پایا ہے کہ واشنگٹن اس سال کے اختتام کے بعد اسرائیل کو فنڈنگ بند کر دے گا۔ انہوں نے یہ بات امریکا میں وسط مدتی انتخابات کی ووٹنگ شروع ہونے پر کہی۔

- ٹرمپ کے مطابق نیتن یاہو سے معاہدے کے تحت اس سال کے بعد اسرائیل کو امریکی فنڈنگ بند ہو جائے گی۔
- ٹرمپ نے موجودہ امداد 4 ارب ڈالر سالانہ بتائی۔
- جولائی میں ایوان نمائندگان نے امداد ختم کرنے کی ترمیم 314 کے مقابلے میں 104 ووٹوں سے مسترد کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت امریکا اس سال کے اختتام کے بعد اسرائیل کو فنڈنگ دینا بند کر دے گا۔ ان کے بیانات عرب نیوز، الجزیرہ اور دی انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیے۔
ٹرمپ نے یہ بات فاکس نیوز کے پروگرام فاکس اینڈ فرینڈز میں امریکی وسط مدتی انتخابات کی ووٹنگ شروع ہونے کے بعد کہی۔ ان کے مطابق واشنگٹن اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر دیتا ہے اور اسے بند کرنے کا معاہدہ مہینوں پہلے ہوا تھا۔ ٹرمپ نے کہا: "جہاں تک اسرائیل کو ادائیگی کا تعلق ہے، بی بی نیتن یاہو اور میرے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ ہم اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر دیتے ہیں، اور ہم نے مہینوں پہلے طے کیا کہ ہم اسے بند کر رہے ہیں۔" (انگریزی سے ترجمہ)
انہوں نے مزید کہا: "ہم پہلے ہی متفق ہو چکے ہیں کہ اس سال کے آخر تک ہم اسرائیل کو ادائیگی نہیں کریں گے۔ اب اگر اسرائیل کو ضرورت ہوئی تو ہم اس کی مدد کریں گے۔" (انگریزی سے ترجمہ) الجزیرہ کے مطابق یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ وہ کس قسم کی امداد کی بات کر رہے تھے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ٹرمپ نے دلیل دی کہ اسرائیل کو اب واشنگٹن کی مدد کی ضرورت نہیں۔
دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بائیں بازو کے کچھ سیاست دان اسرائیل کی فنڈنگ کو ریپبلکنز پر حملے کے لیے بطور نکتہ استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل کا رہنما درست نہ ہوا تو امریکا کو ایران کے خلاف کام اکیلے مکمل کرنا پڑے گا۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کی فوجی امداد اور اسرائیل کے حامیوں کی جانب سے امریکی امیدواروں کو انتخابی چندے اس سال ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے لیے متنازع موضوع رہے ہیں۔ جولائی میں امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کی امداد بند کرنے کی ترمیم مسترد کر دی، جسے تقریباً آدھے ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل تھی۔ ووٹنگ 314 کے مقابلے میں 104 رہی۔ یہ ترمیم کینٹکی کے سبکدوش ہونے والے رکن تھامس میسی نے محکمہ خارجہ کے اخراجات کے بل میں پیش کی تھی۔
دی انڈیپنڈنٹ نے کونسل آن فارن ریلیشنز کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کو 1948 سے اب تک مہنگائی کے حساب سے ایڈجسٹ کر کے 300 ارب ڈالر سے زیادہ اقتصادی اور فوجی امداد مل چکی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے بعد پہلے دو برسوں میں کم از کم 21.7 ارب ڈالر کی فوجی امداد منتقل کی گئی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل ایران کے ساتھ آٹھ ماہ سے جاری تنازع حل نہیں کر سکے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق واشنگٹن نے رات گئے ایران کے جزیرہ قشم پر دوبارہ حملے کیے جبکہ قطری ثالثوں نے مزید کشیدگی سے بچنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ نیتن یاہو گزشتہ ہفتے کے انتخابات میں اکثریت برقرار نہ رکھ سکنے کے بعد اقتدار میں رہنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ پر غیر مقبول جنگ ختم کرنے کا دباؤ ہے۔ وسط مدتی ووٹنگ یہ طے کرے گی کہ ان کی صدارت کے آخری دو برس کانگریس پر کس کا کنٹرول ہوگا۔
یہ کیوں اہم ہے
اسرائیل کو امریکی فوجی امداد ان علاقائی تنازعات کا مرکزی حصہ ہے، بشمول ایران کے ساتھ جنگ، جن پر پاکستانی قارئین گہری نظر رکھتے ہیں۔



