وینس کا ایرانی سکیورٹی سربراہ کو خط، امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مبینہ طور پر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط لکھا ہے۔ یہ خط ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر نئے حملوں کی دھمکی کے چند روز بعد سامنے آیا۔

- رپورٹس کے مطابق وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط لکھا۔
- ٹرمپ نے خط کی درخواست کرنے کی تردید کی مگر کہا کہ انہوں نے وینس کو اجازت دی تھی۔
- سفارت کاروں کے مطابق خلیجی اتحادیوں کو 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا۔
- نیویارک ٹائمز کے مطابق رضائی جمعرات کو جواب دے سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جن کا حوالہ دی انڈیپنڈنٹ اور الجزیرہ نے دیا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے خط بھیجا ہے۔
یہ خط اتوار کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر نئے حملوں کی دھمکی کے چند روز بعد سامنے آیا۔ امریکا نے ستمبر کے آغاز کے بعد ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق وینس نے یہ جانچنے کے لیے خط استعمال کیا کہ آیا دونوں ملک اتنی مشترکہ بنیاد تلاش کر سکتے ہیں کہ ٹرمپ مزید حملوں کا حکم نہ دیں۔ جرنل کے ایک ذریعے کے مطابق خط اور بعد کی بات چیت میں امن کی تفصیلی شرائط نہیں بلکہ مذاکرات کا ممکنہ ڈھانچہ زیر بحث آیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق قطری ثالثوں نے اتوار کو خط رضائی تک پہنچایا اور اس میں جلد ملاقات کی تجویز دی گئی جس میں امریکی وفد کی قیادت وینس کریں گے۔
امریکی اور ایرانی حکام کے حوالے سے میڈیا نے بتایا کہ وینس نے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام شروع سے ایجنڈے پر ہونا چاہیے۔ ایران نے قبول کیا تو مذاکرات اگلے ہفتے ہو سکتے ہیں، جن کے لیے قطر یا ترکیہ کے نام لیے گئے ہیں۔ ایران نے خط پر عوامی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اسے مبینہ طور پر مثبت انداز میں لیا گیا۔ ٹائمز کے مطابق رضائی جمعرات کو سرکاری جواب دے سکتے ہیں۔
جرنل کے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا کہ خط ٹرمپ کی درخواست پر بھیجا گیا۔ ٹرمپ نے بدھ کو اس کی تردید کی اور پوچھے جانے پر کہا: "No." انہوں نے مزید کہا: "He asked me what I thought. I said, if you want to do that, that's okay. Basically, it's getting supplies in to help people that are not well"۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کو دو سفارت کاروں نے بتایا کہ امریکی حکام نے مشرق وسطیٰ کے ممالک اور علاقائی اتحادیوں سے کہا ہے کہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ سفارت کاروں کے مطابق ٹرمپ نے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے کہا: "Do I make a deal with them, or do I finish them off? That's the only question"۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو ایکس پر کہا کہ تہران سفارت کاری کو موقع دے رہا ہے اور گزشتہ ماہ پیش کی گئی تجویز کے خیالات پر ثالثوں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انڈیپنڈنٹ کے مطابق ٹرمپ نے وہ تجویز مسترد کر دی تھی۔ الجزیرہ کے مطابق تہران نے خبردار کیا ہے کہ نئے امریکی اسرائیلی حملوں پر وہ زیادہ شدت سے جواب دے گا، جس میں خلیج میں تیل کے مقامات، زیر سمندر کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی سہولتوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
یہ تنازع فروری میں امریکی اسرائیلی حملوں سے شروع ہوا اور جون کے عبوری معاہدے کے ٹوٹنے کے بعد تعطل کا شکار ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملے کیے ہیں، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
ایران کا تنازع خلیج، تیل کی قیمتوں اور خطے میں کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں کے روزگار اور ترسیلات زر پر اثر ڈالتا ہے۔ خلیج میں تیل اور دیگر تنصیبات پر حملوں کی مبینہ ایرانی تنبیہ اس خدشے میں اضافہ کرتی ہے۔



