امریکی وسط مدتی انتخابات میں چھ دن باقی، قومی پولز میں ڈیموکریٹس آگے
امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے اور قومی پولز میں ڈیموکریٹس آگے ہیں۔ ٹرمپ اور اوباما اہم ریاستوں میں مہم چلا رہے ہیں جبکہ مہنگائی بڑا انتخابی مسئلہ ہے۔

- وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے
- رائٹرز/اپسوس کے پول میں ڈیموکریٹس نو پوائنٹ آگے
- 73 فیصد امریکی بالغ کہتے ہیں مہنگائی غلط سمت میں جا رہی ہے
- ریاستی سطح پر تقریباً 150 بیلٹ اقدامات پر بھی ووٹنگ ہوگی
امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے۔ الجزیرہ کے مطابق رپورٹ کے وقت اس میں چھ دن باقی تھے۔ قومی پولز میں ڈیموکریٹس ریپبلکنز سے آگے ہیں جبکہ سینیٹ کے کئی اہم مقابلوں کا فیصلہ مشکل ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ان انتخابات سے طے ہوگا کہ اگلے دو سال کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔
رائٹرز/اپسوس کے 22 سے 26 اکتوبر کے سروے میں 47 فیصد ووٹرز نے ڈیموکریٹس اور 36 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کی۔ غیر فیصلہ شدہ ووٹرز کے رجحان کو شامل کرنے پر ڈیموکریٹس کو 50 فیصد کے مقابلے میں 41 فیصد کی برتری رہی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ایک پوائنٹ بڑھ کر 32 فیصد ہو گئی۔
سروے کے مطابق 73 فیصد امریکی بالغوں نے کہا کہ مہنگائی غلط سمت میں جا رہی ہے۔ فرانس 24 کے مطابق ایریزونا میں بہت سے لوگ فوڈ اسٹامپس میں کٹوتی کے انتظامیہ کے فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق امریکی ایران جنگ سے بھی بڑھتی ہوئی ناخوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کو ٹیکساس میں دو ریلیاں کیں اور بدھ کو اوہائیو روانہ ہوئے، جہاں وہ 23:00 جی ایم ٹی پر چلیکوتھی میں خطاب کریں گے۔ وہ اتوار کو آئیووا میں بھی ریلی کریں گے۔ سابق صدر باراک اوباما اور کملا ہیرس جارجیا میں ڈیموکریٹس کے لیے مہم چلا رہے تھے۔ نائب صدر جے ڈی وینس شمالی کیرولائنا کے شہر کنسٹن میں ریپبلکن مائیکل واٹلی کی مہم کے لیے جانے والے تھے۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جیمز تالاریکو اور ریپبلکن کین پیکسٹن کے درمیان پولز میں تقریباً برابر مقابلہ ہے۔ الجزیرہ کے فل لیول کے مطابق ٹرمپ سات ہفتوں میں چار بار ٹیکساس گئے، جو ان کے بقول 2024 کے انتخابات سے پہلے اسی مدت کے مقابلے میں دگنا ہے، اور اس سے شاید ظاہر ہوتا ہے کہ ریپبلکنز کتنے فکرمند ہیں۔
دیگر سینیٹ مقابلے بھی سخت ہیں۔ مشی گن میں ڈیموکریٹ عبدالسید کا مقابلہ ریپبلکن مائیک راجرز سے ہے۔ کینساس میں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کا مقابلہ ڈیموکریٹ ایڈم ہیملٹن سے ہے، جہاں اے پی کے مطابق دونوں جماعتوں اور ان کے اتحادی گروپوں نے اشتہارات کے لیے تقریباً 71 ملین ڈالر مختص کیے، جو ریاست کی تاریخ کا مہنگا ترین سینیٹ مقابلہ ہے۔ اوہائیو میں ریپبلکن جان ہسٹڈ کا مقابلہ ڈیموکریٹ شیروڈ براؤن سے ہے، جہاں ایکسیوس کے مطابق 8 اکتوبر تک اشتہارات پر 400 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ یا مختص کیے جا چکے تھے۔
دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق تین درجن سے زیادہ ریاستوں میں ووٹر تقریباً 150 بیلٹ اقدامات پر بھی فیصلہ کریں گے، جن میں اسقاط حمل، ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں سے متعلق قواعد، ووٹر شناخت اور انتخابی حلقہ بندیاں شامل ہیں۔ کیلیفورنیا کی پروپوزیشن 40 میں ریاست کے تقریباً 250 ارب پتیوں کے عالمی اثاثوں پر ایک بار 5 فیصد ویلتھ ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، جس کی گورنر گیون نیوسم مخالفت کرتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
امریکا پاکستان کا اہم شراکت دار ہے اور وسط مدتی انتخابات کا نتیجہ ایران، خلیج اور امداد سے متعلق پالیسی پر اثر ڈال سکتا ہے۔



