امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو، اوباما کی ڈیموکریٹس کے لیے مہم
امریکی ووٹر 3 نومبر کو فیصلہ کریں گے کہ صدر ٹرمپ کی مدت کے دوسرے حصے میں کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ سابق صدر باراک اوباما ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔

- وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے اور کانگریس کا کنٹرول داؤ پر ہے۔
- ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔
- ڈیموکریٹس کو ایوان میں تین اور سینیٹ میں چار نشستیں درکار ہیں۔
- باراک اوباما نے مہم کے دوران صدر ٹرمپ پر تنقید کی۔
امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے جن سے طے ہوگا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدت میں کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ الجزیرہ کے مطابق تقریباً 21 کروڑ رجسٹرڈ ووٹر حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ خود بیلٹ پر نہیں ہیں، تاہم کانگریس ملک کے قوانین بناتی اور وفاقی اخراجات کو کنٹرول کرتی ہے۔
فرانس 24 کے مطابق انتخاب سے دس روز قبل سابق صدر باراک اوباما نے ڈیموکریٹس کے لیے مہم چلائی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے ریپبلکن صدر پر بدعنوانی کا الزام لگایا، ایران سے متعلق ان کی حکمت عملی کا مذاق اڑایا اور وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش میں اپنائے گئے سنہرے انداز پر تنقید کی۔ الجزیرہ نے بھی اوباما کی ٹرمپ پر 'ظلم اور کرپشن' کی تنقید رپورٹ کی۔
ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ ان میں فلوریڈا اور اوہائیو میں خصوصی انتخابات بھی شامل ہیں جو وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کی خالی کردہ نشستوں کے لیے ہوں گے۔ 36 ریاستوں میں گورنروں کا انتخاب بھی ہوگا، جبکہ ریاستی قانون سازوں اور مقامی عہدیداروں کے لیے بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔
اس وقت دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی 218 اور ڈیموکریٹس کی 214 نشستیں ہیں، ایک آزاد رکن ریپبلکنز کے ساتھ بیٹھتا ہے جبکہ دو نشستیں خالی ہیں۔ اکثریت کے لیے 218 نشستیں چاہییں اور ڈیموکریٹس کو کنٹرول کے لیے تین نشستوں کا اضافہ درکار ہے۔
سینیٹ میں ریپبلکنز کے 53 اور ڈیموکریٹس کے 45 ارکان ہیں، جبکہ دو آزاد ارکان ڈیموکریٹس کے ساتھ ہیں اور یوں ان کا بلاک 47 نشستوں کا بنتا ہے۔ ڈیموکریٹس کو 51 تک پہنچنے کے لیے خالص چار نشستوں کا اضافہ چاہیے۔ 50-50 کی صورت میں نائب صدر کے ٹائی بریک ووٹ کی وجہ سے ریپبلکنز کنٹرول برقرار رکھیں گے۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹوڈ بیلٹ نے الجزیرہ کو بتایا کہ 1946 کے بعد وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت اوسطاً ایوان کی 26.5 نشستیں کھوتی رہی ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق تقریباً 35 مقابلے ایوان کی اکثریت کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ڈیموکریٹس تقریباً 15 نشستیں حاصل کر سکتے ہیں، حالانکہ ان کے بقول ریپبلکن حلقہ بندیوں سے پارٹی کو نو اضافی حلقوں میں برتری ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک ایوان میں ڈیموکریٹس جیتے تو حکومتی فنڈنگ کے علاوہ تمام قانون سازی رک جائے گی۔
الجزیرہ کے مطابق سینیٹ کے سخت مقابلوں میں جارجیا، مbuilding مشی گن، نیو ہیمپشائر، مین اور شمالی کیرولائنا شامل ہیں، جبکہ اوہائیو، الاسکا اور آئیووا میں بھی کانٹے دار مقابلہ ہے۔ انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق مسابقتی مقابلوں کی بڑھتی تعداد سے ڈیموکریٹس کے سینیٹ جیتنے کے امکانات بڑھے ہیں۔ نئی کانگریس 3 جنوری 2027 کو حلف اٹھائے گی۔
یہ کیوں اہم ہے
امریکی تجارت، ویزوں اور خطے سے متعلق پالیسی پاکستان کے تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے انتخاب کے بعد کانگریس میں طاقت کا توازن پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔



