ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا4 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایران جنگ پر امریکی فوج کی لاگت 47 ارب ڈالر سے بڑھ گئی، پینٹاگون تخمینہ

امریکی سینٹرل کمانڈ کے تخمینے کے مطابق وسط اکتوبر تک ایران جنگ پر امریکی فوج کے کم از کم 47.1 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑا حصہ گولہ بارود کی تبدیلی پر لگا۔

Photo: pentagon, washington dc, military, headquarters
Photo: pentagon, washington dc, military, headquarters تصویر: 12019 / Pixabay
اہم نکات
  • سی بی ایس نیوز کے مطابق وسط اکتوبر تک لاگت 47.1 ارب ڈالر ہے
  • تقریباً 29 ارب ڈالر گولہ بارود اور 6.1 ارب ڈالر کھوئے ہوئے سازوسامان کی تبدیلی پر
  • امریکی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان اس رقم میں شامل نہیں
47.1 ارب ڈالروسط اکتوبر تک کل لاگت
تقریباً 29 ارب ڈالرگولہ بارود کی تبدیلی
6.1 ارب ڈالرسازوسامان کی تبدیلی
37.5 ارب ڈالرجولائی کا بتایا گیا تخمینہ

سی بی ایس نیوز کو ملنے والے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے نئے تخمینے کے مطابق وسط اکتوبر تک ایران جنگ پر امریکی فوج کے کم از کم 47.1 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ رائٹرز نے بھی پینٹاگون کے ڈیٹا کے حوالے سے 47 ارب ڈالر سے زائد لاگت بتائی، جو جولائی میں محکمہ دفاع کے تخمینے سے 25 فیصد سے زیادہ ہے۔

سی بی ایس کے مطابق سب سے بڑا حصہ تقریباً 29 ارب ڈالر استعمال شدہ گولہ بارود کی جگہ نیا گولہ بارود لینے پر خرچ ہوا۔ فوج نے کھوئے ہوئے سازوسامان کی تبدیلی کے لیے 6.1 ارب ڈالر اور امریکی اہلکاروں کی معاونت جیسے اضافی اخراجات کے لیے تقریباً 11.9 ارب ڈالر شمار کیے۔ یہ تخمینہ ارکانِ کانگریس کو فراہم کیا گیا۔

اس رقم میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان شامل نہیں، جن میں سے کئی کو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ سی این بی سی نے انسپکٹر جنرل کی کانگریس کو رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 29 جون تک عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتی تنصیبات کو 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔

تین ماہ قبل وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ارکانِ کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ پر تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ ہوئے، اس میں بھی متاثرہ اڈے شامل نہیں تھے۔ کانگریشنل بجٹ آفس نے گزشتہ ماہ کہا کہ جنگ جاری رہنے تک ماہانہ 2 سے 3 ارب ڈالر لاگت آ سکتی ہے، جس کی ایک وجہ انٹرسیپٹر میزائلوں کی تبدیلی ہے۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے گزشتہ ماہ کہا کہ استعمال شدہ گولہ بارود کے باعث امریکا کو "strategic inventory shortfalls" کا سامنا ہے اور محکمہ دفاع پیداوار تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ فوج کو قلت کا سامنا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے ستمبر کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکا کے پاس "virtually unlimited" گولہ بارود ہے۔

انتظامیہ نے اس سال کے اوائل میں کانگریس سے اضافی فوجی فنڈنگ کے لیے دسیوں ارب ڈالر مانگے، جس کی ایک وجہ ایران جنگ ہے۔ یہ درخواست منظور نہیں ہوئی، اور ڈیموکریٹس نے ہیگستھ سے اخراجات کا مزید تفصیلی حساب مانگا ہے۔

جنگ اس ہفتے نویں مہینے میں داخل ہو رہی ہے اور اس کا مستقبل واضح نہیں۔ گرمیوں میں عام رہنے والی امریکا اور ایران کی جوابی کارروائیاں حالیہ ہفتوں میں خاموش ہیں۔ لبک، ٹیکساس کے جلسے میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ "whenever I want it to end" ختم ہو گی اور ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ گزشتہ ہفتے فلوریڈا کے جلسے میں انہوں نے کہا تھا کہ "We may do another little Epic Fury, or they'll agree."

سی این بی سی کے مطابق رائٹرز/اپسوس کے پیر کے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 32 فیصد رہی، جبکہ امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہیں۔ مُوڈیز اینالیٹکس کے چیف اکنامسٹ مارک زندی نے 12 اکتوبر کو کہا تھا کہ جنگ سے امریکی خاندانوں پر اوسطاً تقریباً 2,000 ڈالر کا بوجھ پڑا۔

یہ کیوں اہم ہے

جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں بلند اور خلیج میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں لاکھوں پاکستانی کارکن رہتے اور ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایران جنگپینٹاگونامریکا

اس خبر پر مزید