ابھی ابھیحکومت کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار، بعض شعبوں کو ایندھن میں رعایتامریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میںپیٹرولیم قیمتوں میں مزید ریلیف کا عندیہ، ایل پی جی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھلے گی
سائنس4 ذرائع سے تصدیق شدہ

اسلام آباد میں خلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی عمل پر اقوام متحدہ-پاکستان کانفرنس شروع

سپارکو نے اسلام آباد میں قبل از وقت انتباہ اور موسمیاتی اقدامات کے لیے خلائی ٹیکنالوجی پر پانچ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کر دیا۔ کانفرنس 27 سے 31 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گی اور اس میں 20 ممالک کے تقریباً 250 شرکا شریک ہیں۔

Photo: radar dish, radar, earth station, fuchsstadt
Photo: radar dish, radar, earth station, fuchsstadt تصویر: WikiImages / Pixabay
اہم نکات
  • پانچ روزہ کانفرنس 27 سے 31 اکتوبر 2026 تک سیرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہو رہی ہے
  • 20 ممالک کے تقریباً 250 شرکا شریک ہیں
  • افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر احسن اقبال تھے
27 تا 31 اکتوبر 2026کانفرنس کی تاریخیں
تقریباً 250شرکا
20شریک ممالک
جی ڈی پی کا تقریباً 2.2 فیصد2022 کے سیلاب کے نقصانات

اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں خلائی ٹیکنالوجی برائے EW4All، موسمیاتی اقدامات اور آفات کے خطرات کے جائزے سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ یہ پانچ روزہ کانفرنس 27 سے 31 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گی۔

کانفرنس کا انعقاد اقوام متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور (UNOOSA)، انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ISNET) اور ایشیا پیسفک اسپیس کوآپریشن آرگنائزیشن (APSCO) کے اشتراک سے ہو رہا ہے۔ پرو پاکستانی کے مطابق 20 ممالک کے تقریباً 250 قومی اور بین الاقوامی شرکا شریک ہیں۔ ڈیلی ٹائمز نے پہلے بتایا تھا کہ سپارکو کو 200 سے 250 شرکا کی توقع ہے۔

کانفرنس کا مرکزی موضوع اقوام متحدہ کا اقدام 'سب کے لیے قبل از وقت انتباہ' (EW4All)، آفات کے خطرات کا جائزہ، موسمیاتی اقدامات اور بروقت فیصلوں کے لیے سیٹلائٹ معلومات اور جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز کا استعمال ہے۔ سپارکو کے مطابق قبل از وقت انتباہی نظام جانوں، روزگار اور انفراسٹرکچر کے تحفظ میں مدد دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 کے سیلاب سے براہِ راست نقصانات جی ڈی پی کے تقریباً 2.2 فیصد کے برابر تھے، اور کہا کہ موسمیاتی مزاحمت کو قومی معاشی منصوبہ بندی اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بنانا چاہیے۔

انہوں نے ڈیٹا شیئرنگ کے بہتر نظام، انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیت میں سرمایہ کاری، مالی معاونت کے جدید ماڈلز اور علاقائی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کانفرنس سے ادارہ جاتی انتظامات، ڈیٹا شیئرنگ، فنانسنگ اور صلاحیت سازی پر قابلِ عمل سفارشات مانگیں اور کہا کہ ان کی وزارت انہیں قومی منصوبہ بندی کے عمل میں زیرِ غور لائے گی۔

چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے شرکا کا خیر مقدم کیا اور موسمیاتی نگرانی، آفات سے نمٹنے اور قبل از وقت انتباہ میں خلائی ایپلی کیشنز کی بڑھتی اہمیت اجاگر کی۔ آئی سنیٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر منیر احمد اسد، یونوسا کی ڈائریکٹر آرتی ہولا مینی اور اپسکو کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جیانگ ہوئی نے بھی خطاب کیا۔

بین الاقوامی شرکا میں عالمی پروگرام برائے خوراک، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین اور انڈونیشیا، ایران، عراق، ترکی، ویتنام اور نیپال کے خلائی و تحقیقی ادارے شامل ہیں۔ پاکستانی اداروں میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، این ڈی ایم اے، محکمہ موسمیات، فیڈرل فلڈ کمیشن، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی شامل ہیں۔

تکنیکی پروگرام میں سیلابی خطرات کی ماڈلنگ، کثیر خطرات کی نقشہ سازی، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلاب کی قبل از وقت اطلاع، گلیشیئرز، جنگلات، زرعی علاقوں اور آبی وسائل کی سیٹلائٹ نگرانی، موسمیاتی خطرات کی مالی معاونت، فصلوں کے نقصان کا تخمینہ اور خطرات کی نشاندہی کے لیے اے آئی اور جیو اے آئی کا استعمال شامل ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات کی زد میں ہے اور کانفرنس میں انتباہ اور منصوبہ بندی کے لیے سیٹلائٹ ذرائع پر بات ہو رہی ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق ان کی وزارت سفارشات کو قومی منصوبہ بندی میں زیرِ غور لائے گی۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سپارکوموسمیاتی تبدیلیقبل از وقت انتباہ

اس خبر پر مزید