بھارت نے جی ایس ایل وی راکٹ سے این وی ایس 03 نیویگیشن سیٹلائٹ لانچ کر دیا
بھارتی خلائی ایجنسی اسرو نے 30 اکتوبر کو سری ہری کوٹا سے جی ایس ایل وی راکٹ پر این وی ایس 03 سیٹلائٹ روانہ کیا۔ اس کا مقصد بھارت کے اپنے علاقائی نیویگیشن نظام ناوک کو مضبوط بنانا ہے۔

- اسرو نے 30 اکتوبر کو بھارتی وقت کے مطابق رات 11:51 پر سری ہری کوٹا سے این وی ایس 03 لانچ کیا۔
- یہ ناوک کو وسعت دینے والی دوسری نسل کی سیریز کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔
- اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق راکٹ نے اسے منصوبے کے مطابق جیو اسٹیشنری ٹرانسفر مدار میں پہنچایا۔
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے جمعہ 30 اکتوبر کو آندھرا پردیش کے علاقے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے جی ایس ایل وی راکٹ کے ذریعے این وی ایس 03 نیویگیشن سیٹلائٹ روانہ کیا۔ راکٹ بھارتی معیاری وقت کے مطابق رات 11:51 پر روانہ ہوا، جسے اسپیس ڈاٹ کام نے امریکی ایسٹرن وقت کے مطابق دوپہر 2:21 بتایا۔
گلف نیوز کے مطابق 50 میٹر بلند، تین مرحلوں والے جی ایس ایل وی ایف 18 راکٹ نے 2,232 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ کو جیو سنکرونس ٹرانسفر مدار میں پہنچانے کے ہدف کے ساتھ پرواز کی۔ اسپیس ڈاٹ کام نے بتایا کہ راکٹ نے سیٹلائٹ کو منصوبے کے مطابق اس مدار میں چھوڑ دیا، اور اسرو حکام نے لانچ کے تقریباً 30 منٹ بعد ایکس پر اس کا اعلان کیا۔
یہ سیٹلائٹ بھارت کے مقامی نیویگیشن نظام ناوک کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق مشن کا مقصد امریکی ملکیت والے جی پی ایس پر انحصار کم کرنا ہے۔ اسرو نے لانچ کے پیغام میں کہا کہ ناوک کے لیے اس کا ریسکیو مشن اب شروع ہو گیا ہے۔
گلف نیوز کے مطابق این وی ایس 03 دوسری نسل کی این وی ایس سیریز کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق ناوک کے اس وقت تین سیٹلائٹ مکمل طور پر کام کر رہے ہیں، جبکہ پوزیشن، نیویگیشن اور ٹائمنگ کی خدمات کے لیے چار درکار ہیں۔ گلف نیوز کے مطابق اسرو نے موجودہ نظام کو وسعت دینے کے لیے دوسری نسل کے پانچ سیٹلائٹ کا منصوبہ بنایا ہے۔
تکنیکی تفصیلات کے مطابق گلف نیوز نے بتایا کہ سیٹلائٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ ایٹمی گھڑی کے ساتھ خریدی گئی ایٹمی گھڑیاں بھی موجود ہیں۔ اس میں موجودہ ایل 5 اور ایس سگنلز کے ساتھ ایل 1 نیویگیشن سگنل بھی شامل کیا گیا ہے۔ مدار میں پہنچنے کے بعد یہ مدار بلند کرنے کی کارروائیوں کے ذریعے 32.5 ڈگری مشرق پر اپنے آخری مقام تک جائے گا۔
اسرو کے مطابق ناوک ایک علاقائی نیویگیشن نظام ہے جو بھارت اور بھارتی سرزمین سے تقریباً 1,500 کلومیٹر آگے تک کے علاقے میں، جو اس کا بنیادی خدماتی علاقہ ہے، درست پوزیشن، نیویگیشن اور ٹائمنگ سروس فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ گلف نیوز کے مطابق ناوک شہری صارفین کو اسٹینڈرڈ پوزیشننگ سروس اور مجاز صارفین کو خفیہ کردہ ریسٹرکٹڈ سروس دیتا ہے۔
اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق یہ جی ایس ایل وی مارک ٹو کی 14ویں پرواز تھی، جن میں سے 12 کامیاب رہیں۔ یہ 2026 میں بھارتی سرزمین سے چوتھا مداری لانچ اور اسرو کا تیسرا لانچ تھا۔ دوسرا لانچ اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے کیا تھا، جو جولائی میں مدار تک پہنچنے والی پہلی بھارتی کمپنی بنی۔
یہ کیوں اہم ہے
بھارت کا نیویگیشن پروگرام ایک علاقائی خلائی کوشش ہے جس پر پاکستانی قارئین نظر رکھتے ہیں، کیونکہ ناوک کا بنیادی خدماتی علاقہ بھارتی سرزمین سے تقریباً 1,500 کلومیٹر آگے تک ہے۔



