ابھی ابھیپاکستان کے چین کے ساتھ تعلیم کے 11 معاہدے، نوجوانوں کی مہارتوں پر زوریوکرین کے گاؤں کومیشووخا میں اسکول پر روسی حملہ، کم از کم 31 ہلاکپاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے فعاذ میزائل کا تجربہ
سائنس3 ذرائع سے تصدیق شدہ

لانسیٹ رپورٹ: موسمیاتی تبدیلی کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دینے کا مطالبہ

لانسیٹ کی 2026 کی کاؤنٹ ڈاؤن رپورٹ کے مطابق گرمی سے اموات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ مصنفین نے موسمیاتی تبدیلی کو باضابطہ طور پر عالمی ہیلتھ ایمرجنسی تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: fire, smoke, global warming, consequences
Photo: fire, smoke, global warming, consequences تصویر: OrnaW / Pixabay
اہم نکات
  • لانسیٹ کی دسویں کاؤنٹ ڈاؤن رپورٹ میں 30 ممالک کے 146 محققین شامل تھے۔
  • 2023 میں گرمی سے تقریباً 710,000 اموات ہوئیں، جن میں 71.5 فیصد موسمیاتی تبدیلی سے منسوب ہیں۔
  • 2025 میں گرمی سے تقریباً 1.07 ٹریلین ڈالر کی پیداواری صلاحیت ضائع ہوئی۔
710,0002023 میں گرمی سے اموات
71.5%موسمیاتی تبدیلی سے منسوب حصہ، 2023
1.07 ٹریلین ڈالر2025 میں گرمی سے پیداواری نقصان
146رپورٹ میں شامل محققین

لانسیٹ کی 2026 کی کاؤنٹ ڈاؤن آن ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ چینج رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کو باضابطہ طور پر عالمی ہیلتھ ایمرجنسی تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق یہ رپورٹ کا دسواں ایڈیشن ہے اور نومبر میں COP 31 موسمیاتی کانفرنس سے پہلے جاری کیا گیا۔

عرب نیوز کے مطابق رپورٹ میں 30 ممالک کے 146 محققین نے دنیا کی آبادی کی صحت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا۔ سائنس الرٹ کے مطابق کاؤنٹ ڈاؤن 54 صحتی اشاریوں کا جائزہ لیتی ہے اور اس کی پہلی رپورٹ 10 سال قبل شائع ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق شدید گرمی اور خشک سالی سے جڑے خطرات موسمیاتی اقدامات کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، حالانکہ گزشتہ دہائی میں فوسل فیول سے دوری کے لیے سرمایہ کاری بڑھی ہے۔

تخمینوں کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں گرمی سے 710,000 اموات ہوئیں اور ان میں سے 71.5 فیصد موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کی جا سکتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نہ ہوتی تو یہ تعداد تقریباً 200,000 ہوتی۔

2016 سے 2023 کے درمیان ہر سال اوسطاً 540,800 اموات گرمی سے منسلک رہیں۔ ان میں سے 68 فیصد یعنی 369,900 کی ذمہ دار موسمیاتی تبدیلی تھی، جبکہ 2006 سے 2015 میں یہ شرح 55 فیصد تھی۔

معاشی نقصان بھی بڑا ہے۔ 2025 میں گرمی نے لوگوں کی کام کرنے کی صلاحیت متاثر کر کے عالمی پیداواری صلاحیت کو تقریباً 1.07 ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ سب سے زیادہ جی ڈی پی نقصان جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں ہوا۔ زراعت اور تعمیرات سب سے زیادہ متاثر ہوئیں کیونکہ ان میں کھلی فضا میں سخت جسمانی محنت درکار ہوتی ہے۔

لانسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارینا رومانیلو نے کہا کہ صاف توانائی، نظامِ صحت کی تیاری اور صحت کے تحفظ کے ضوابط میں پیش رفت ہوئی ہے، مگر یہ بہت سست اور محدود ہے اور ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ رہی۔ رپورٹ کے مطابق 2040 تک دنیا کی 100 بڑی تیل و گیس کمپنیاں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کے لیے درکار سطح سے کہیں زیادہ پیداوار کا منصوبہ رکھتی ہیں۔

مصنفین کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ موسمیاتی تبدیلی کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیں، حکومتیں صحت کو موسمیاتی فیصلوں کا مرکز بنائیں اور گرانٹ پر مبنی فنڈنگ بڑھائی جائے۔ شریک چیئر انتھونی کوسٹیلو نے کہا کہ صحت پر مرکوز اقدامات سے صاف ہوا اور بہتر وارننگ سسٹم جیسے فوائد مل رہے ہیں، مگر اخراج میں کمی کی رفتار نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے.

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان کی گرم گرمیوں میں گرمی سے اموات کا خطرہ بڑھ رہا ہے، اور یہ رپورٹ COP 31 موسمیاتی کانفرنس سے پہلے سامنے آئی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

موسمیاتی تبدیلیگرمی سے امواتلانسیٹ

اس خبر پر مزید