ناسا کی سوئفٹ دوربین بے قابو ہو کر زمین پر گرنے کو تیار، مقام واضح نہیں
ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین کو بلند مدار میں پہنچانے کا ریسکیو مشن ناکام ہونے کے بعد وہ چند دنوں میں زمین پر گرنے والی ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ وہ ٹھیک کب اور کہاں گرے گی۔

- امریکی خلائی فورس کے مطابق سوئفٹ جمعہ کے آس پاس بے قابو انداز میں فضا میں داخل ہوگی۔
- تقریباً 1,500 کلوگرام کی رصدگاہ کا بیشتر حصہ جل جائے گا، ناسا کے مطابق زمین پر کسی کو نقصان کا امکان کم ہے۔
- اس کا مدار خطِ استوا کے قریب ایک پٹی پر ہے جس میں جنوبی ایشیا کے حصے بھی شامل ہیں۔
اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین آئندہ چند دنوں میں زمین پر گرنے کی توقع ہے۔ رصدگاہ کو بلند مدار میں پہنچانے کا روبوٹک ریسکیو مشن ناکام رہا، اس لیے وہ بے قابو انداز میں فضا میں داخل ہوگی۔ اس کے گرنے کا ٹھیک وقت اور مقام ابھی معلوم نہیں۔
دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق امریکی خلائی فورس کا اندازہ ہے کہ نیل گیہریلز سوئفٹ آبزرویٹری جمعہ کے آس پاس گرے گی، اور خلائی فورس اس کے راستے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں شدید شمسی سرگرمی کے باعث سوئفٹ توقع سے زیادہ تیزی سے نیچے آئی۔
سوئفٹ 20 نومبر 2004 کو روانہ کی گئی اور 22 سال مدار میں رہی۔ اس نے تین دوربینوں BAT، XRT اور UVOT کی مدد سے گیما شعاعوں کے دھماکوں اور دیگر کائناتی واقعات کا مطالعہ کیا۔ انڈیپنڈنٹ کے مطابق اس دوران اس نے 2,000 سے زیادہ گیما ریز برسٹ اور 1,400 پھٹتے ستارے دریافت کیے۔
20 اکتوبر کو ناسا نے بتایا کہ سوئفٹ کا مدار گھٹ کر زمین سے 171 میل (275 کلومیٹر) رہ گیا ہے۔ تقریباً 3,300 پاؤنڈ (1,500 کلوگرام) وزنی یہ رصدگاہ بڑھی ہوئی رگڑ کا مقابلہ نہ کر سکی اور سیف موڈ میں چلی گئی۔ اس کے بعد پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی آپریشنز ٹیم نے ایسا حکم بھیجا جس سے اس کا کام مؤثر طور پر ختم ہو گیا۔
ایکو کمپوننٹس کے ایرو اسپیس انجینئر ڈین سلیڈن کے مطابق سوئفٹ کا مدار خطِ استوا کے تقریباً 21 درجے کے اندر ایک پٹی پر گزرتا ہے۔ ان کے بقول یہ پٹی زیادہ تر سمندر ہے لیکن افریقہ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکا کے آباد علاقوں سے بھی گزرتی ہے۔ انڈیپنڈنٹ نے آسٹریلیا، بھارت اور وسطی و جنوبی امریکا کو بھی ممکنہ علاقے میں شمار کیا۔
سلیڈن کے مطابق سوئفٹ کا بیشتر ڈھانچہ ایلومینیم، تاروں اور الیکٹرانکس پر مشتمل ہے جو واپسی کے آغاز میں پگھل جاتے ہیں۔ بچنے کا زیادہ امکان اس کے چھ بھاری ری ایکشن وہیلز اور دوربین کے مضبوط حصوں جیسے عدسوں اور آئینوں کا ہے۔ مشن کے چیف سائنس دان براد سینکو کے مطابق کچھ گنجان اور آئینہ دار حصے بچ سکتے ہیں اور اگر بچے تو غالباً سمندر میں گریں گے۔
لیو لیبز کے ڈیرن میک نائٹ کے مطابق سوئفٹ غالباً اتنی ٹوٹ جائے گی کہ زمین پر جانی خطرہ نہیں رہے گا، البتہ ایکس رے اور آپٹیکل دوربین کا اندرونی حصہ بچ سکتا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ زمین پر کسی کو نقصان کا امکان کم ہے، اور لیو لیبز اسے بہت معمولی خطرہ قرار دیتی ہے۔ سلیڈن کے مطابق ناسا کے ملبے سے متعلق ضوابط بچ جانے والے ملبے سے انسانی ہلاکت کا خطرہ ایک فی 10,000 تک محدود رکھتے ہیں، اور ابھی تک سوئفٹ کے گرنے کا تفصیلی خطرے کا جائزہ شائع نہیں ہوا۔
میک نائٹ نے کہا: "افسوس کی بات ہے کہ سوئفٹ کو دوبارہ بلند مدار میں نہیں پہنچایا گیا، مگر واپسی کے خطرے کے لحاظ سے یہ واپس آنے والی چیزوں کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے بتایا کہ ہر سال فضا میں واپس آنے والی اشیا پانچ سال پہلے کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔ پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر فلکیات جان نوسیک نے کہا: "ہم سوئفٹ کے لانچ ہونے سے پہلے ہی جانتے تھے کہ یہ دن آئے گا۔" (انگریزی سے ترجمہ)
یہ کیوں اہم ہے
سوئفٹ کا مدار جنوبی ایشیا کے کچھ حصوں سے گزرتا ہے، اس لیے اس کا بے قابو انداز میں گرنا پاکستان کے قارئین کے لیے دلچسپی کی خبر ہے، تاہم ناسا کے مطابق زمین پر نقصان کا امکان کم ہے۔



