برطانیہ میں مستقل سکونت کا انتظار دگنا، کیئر ورکرز مستثنیٰ
برطانیہ نے بیشتر غیر ملکی کارکنوں کے لیے مستقل سکونت کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر 10 سال کر دی ہے۔ حکمران لیبر پارٹی میں تنقید کے بعد کیئر ورکرز کو استثنا دیا گیا ہے۔

- بیشتر غیر ملکی کارکنوں کو اب مستقل سکونت کے لیے 10 سال انتظار کرنا ہوگا، پہلے پانچ سال تھے۔
- 50 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے پانچ سال اور 125 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ والے تین سال بعد درخواست دے سکیں گے۔
- کم از کم 25 ہزار پاؤنڈ کمانے والے کیئر ورکرز پانچ سال بعد مستقل سکونت لے سکتے ہیں۔
- نئے قواعد اگلے سال نافذ ہوں گے اور ملک میں موجود کارکنوں پر بھی لاگو ہوں گے۔
برطانوی حکومت نے امیگریشن قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے بیشتر غیر ملکی کارکنوں کے لیے مستقل سکونت کی اہلیت کی مدت پانچ سال سے دگنی کر کے 10 سال کر دی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پیر کو پارلیمنٹ میں ان تبدیلیوں پر خطاب کیا۔
مستقل سکونت، جسے برطانیہ میں انڈیفینیٹ لیو ٹو ریمین کہا جاتا ہے، کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے، مفت قومی ادارہ صحت کی سہولت استعمال کرنے اور سرکاری فلاحی مراعات لینے کا حق دیتی ہے۔ نئے قواعد اگلے سال نافذ ہونے والے ہیں اور ملک میں پہلے سے موجود کارکنوں پر بھی لاگو ہوں گے۔
اہلیت کو آمدنی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ سالانہ 50 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے اب بھی پانچ سال بعد اور 125 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے تین سال بعد درخواست دے سکیں گے۔ باقی سب کو 10 سال والے راستے پر رکھا جائے گا۔ برطانیہ میں اوسط تنخواہ تقریباً 39 ہزار پاؤنڈ ہے۔
لاکھوں کیئر ورکرز کو سخت قواعد سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ منصوبے کے مطابق اگر وہ ویزا شرائط پوری کریں اور سالانہ کم از کم 25 ہزار پاؤنڈ کمائیں تو پانچ سال بعد مستقل سکونت لے سکتے ہیں۔ یہ رعایت لیبر پارٹی کے اندر سیاسی ردعمل کے بعد دی گئی۔ حکومت نے گزشتہ سال کم ہنر والے کارکنوں کے لیے 10 سے 15 سال کی تجویز دی تھی جس کی یونینوں اور پارٹی کے کچھ حصوں نے مخالفت کی۔
پناہ گزینوں میں سے جو نئے محفوظ اور قانونی راستوں سے آئیں گے وہ پانچ سال بعد مستقل سکونت لے سکیں گے۔ دیگر پناہ گزینوں کے لیے معمول کی مدت 20 سال ہے، جو کام یا تعلیم کرنے والوں کے لیے 10 سال ہو جاتی ہے۔ غیر قانونی طریقے سے، مثلاً چھوٹی کشتی کے ذریعے آنے والوں کو 30 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
جن درخواست گزاروں کا مجرمانہ ریکارڈ ہو، جو اعلیٰ معیار کی انگریزی نہ بول سکیں، حکومت کے مقروض ہوں یا کم از کم تین سال نیشنل انشورنس کی ادائیگی نہ کی ہو، وہ نااہل ہوں گے۔
شبانہ محمود نے کہا: "مستقل سکونت خودکار نہیں ہونی چاہیے۔ اسے کمایا جانا چاہیے۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے یہ بھی کہا: "جو سب سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں وہ سب سے جلد مستقل ہوں گے۔" (انگریزی سے ترجمہ) اور: "جو قواعد پر نہیں چلیں گے انہیں مسترد کیا جائے گا یا انہیں زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔" (انگریزی سے ترجمہ)
ان کے مطابق اس اصلاح سے پانچ لاکھ افراد معمول سے دیر سے مستقل ہوں گے، جس سے حکومت کو مراعات کی مد میں اربوں پاؤنڈ کی بچت ہوگی۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان 14 لاکھ تک افراد کو مستقل حیثیت ملے گی۔ یہ تبدیلیاں 12 ہفتے کی عوامی مشاورت کے بعد سامنے آئیں جس میں 2 لاکھ سے زیادہ جوابات آئے۔ حکومت کے مطابق برطانیہ اور فرانس کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بڑھے تعاون سے اس سال چینل عبور کرنے والوں کی تعداد 2025 کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ کم ہوئی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
برطانیہ میں ورک ویزا پر موجود بہت سے پاکستانیوں کے لیے مستقل سکونت کا راستہ طویل ہو گیا ہے، اور نئے قواعد پہلے سے موجود افراد پر بھی لاگو ہوں گے۔



