ٹرمپ کا ووٹر فراڈ پر 10 لاکھ ڈالر انعام، وسط مدتی انتخابات سے قبل ریاستوں کے خلاف مقدمات
امریکی صدر ٹرمپ نے ووٹر فراڈ کی اطلاع پر 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ محکمہ انصاف 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کئی ریاستوں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نتائج تب مانیں گے جب انتخابات "ایماندارانہ" ہوں۔

- ٹرمپ نے ووٹر فراڈ کی اطلاع پر 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا، جو گرفتاری اور سزا سے مشروط ہے۔
- محکمہ انصاف نے ریاست واشنگٹن سے تقریباً 400 مبینہ غیر شہریوں کے بیلٹ الگ رکھنے کا کہا۔
- وفاقی اپیلیٹ عدالت نے کیلیفورنیا کے 20,000 ووٹرز کے بیلٹ گننے سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔
- وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ووٹر فراڈ کی اطلاع دینے پر 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی انتظامیہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریاستوں کے خلاف قانونی اقدامات کر رہی ہے۔ گارڈین کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ یہ رقم ذمہ داروں کی گرفتاری اور سزا کے بعد دی جائے گی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انعام کے لیے رقم کہاں سے آئے گی۔ گارڈین نے ووٹر فراڈ کے ان کے بار بار کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
منگل کو صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ اگر ان کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دے تو کیا وہ نتیجہ تسلیم کریں گے۔ الجزیرہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ اگر انتخابات ایماندارانہ ہوئے تو وہ تسلیم کریں گے۔
پیر کو محکمہ انصاف نے ریاست واشنگٹن سے کہا کہ وہ ان 400 سے زائد افراد کے بیلٹ الگ رکھے جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی شہریت کے بغیر ووٹر کے طور پر رجسٹر ہیں۔ خط میں ریاست کو بدھ کی دوپہر تک جواب دینے کی مہلت دی گئی، ورنہ محکمے کے بقول "ہنگامی ریلیف" مانگا جائے گا۔ گارڈین کے مطابق ووٹنگ کے دوران اس مہینے یہ تیسرا موقع ہے کہ محکمے نے کسی ریاست کو براہِ راست چیلنج کیا۔
واشنگٹن کے سیکرٹری آف اسٹیٹ اسٹیو ہوبز نے کہا کہ عام انتخابات سے ایک ہفتہ پہلے یہ مطالبہ نتائج پر بے بنیاد شبہ ڈالنے کے لیے ہے۔ ان کے دفتر کے مطابق فہرست کا جائزہ لیا جا رہا ہے مگر کچھ اندراجات پرانی معلومات پر مبنی نکلے، جن میں 1994 کا ایک ریکارڈ بھی شامل ہے۔ ہوبز نے کہا کہ غیر شہریوں کا ووٹ ڈالنا انتہائی نایاب ہے اور ہر ووٹر بیلٹ کے لفافے پر اہلیت کا اقرار نامہ دستخط کرتا ہے۔ گزشتہ ماہ واشنگٹن نے عدالت میں یہ مؤقف جیتا تھا کہ وہ اپنی پوری ووٹر فہرست محکمہ انصاف کو دینے کا پابند نہیں۔
کیلیفورنیا میں وفاقی اپیلیٹ عدالت نے انتظامیہ کی وہ کوشش مسترد کر دی جس کا مقصد ریاست کو 20,000 رجسٹرڈ ووٹرز کے بیلٹ گننے سے روکنا تھا، جنہیں محکمہ انصاف غیر شہری قرار دیتا ہے۔ کیلیفورنیا کے حکام نے پہلے کہا تھا کہ فہرست میں شامل بہت سے لوگ بظاہر امریکا میں پیدا ہوئے ہیں، جس سے وہ خود بخود اہل ووٹر ہیں۔
گزشتہ ہفتے محکمے نے الاسکا کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا اور کہا کہ اگر ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان نہ جیتے تو وہ سینیٹ انتخاب کی توثیق رکوانے کی کوشش کرے گا۔ اس کا مؤقف ہے کہ بیلٹ پر ڈین سلیوان نام کے ایک اور امیدوار کی موجودگی سے مقامی حکام منصفانہ انتخاب کرانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ مقدمہ دائر کرنے کا کہنا ان کا اپنا فیصلہ تھا۔
محکمہ انصاف 3 نومبر کو ریکارڈ تعداد میں انتخابی مبصرین بھیجنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے، حالانکہ نیو جرسی اور کیلیفورنیا سمیت ڈیموکریٹ ریاستوں کے مقامی حکام نے اعتراض کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ماضی میں مبصرین ان مقامات پر جاتے رہے ہیں جہاں شہری حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ ہو۔ دونوں جماعتوں سے وابستہ ووٹنگ حقوق کے گروپ اس دعوے کو بار بار مسترد کر چکے ہیں کہ بڑی تعداد میں غیر شہری ووٹ ڈالتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
امریکی وسط مدتی انتخابات ایک بڑی طاقت کا اہم انتخاب ہیں جس کی پالیسیاں پاکستان کے تعلقات اور تجارت پر اثر ڈالتی ہیں، اس لیے انتخابات کے انعقاد پر تنازعات واشنگٹن کی سیاسی سمت سے جڑے ہیں۔


