ابھی ابھی
دنیا2 ذرائع سے تصدیق شدہ

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست، یورپ میں populist دائیں بازو پر بحث

الجزیرہ کے مطابق ڈیموکریٹس نے نصف صدی میں سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ گلف نیوز کے مطابق یورپ میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا قوم پرست دائیں بازو کا زور ٹوٹ رہا ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست، یورپ میں populist دائیں بازو پر بحث
تصویر: Dusan_Cvetanovic / Pixabay
اہم نکات
  • الجزیرہ کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی نصف صدی میں سب سے بڑی ہے
  • یہ امریکی تاریخ کا مہنگا ترین انتخاب تھا، تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ ہوئے
  • گلف نیوز کے مطابق قوم پرست جماعتوں کو تقریباً 18 ماہ میں کم از کم آٹھ قومی انتخابی دھچکے لگے
  • فرانس کے انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں نے مہنگائی اور ایران جنگ سے جڑی ایندھن کی قیمتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا
تقریباً 12 ارب ڈالرانتخابی اخراجات
تقریباً 18 ماہ میں کم از کم 8قوم پرست جماعتوں کے قومی انتخابی دھچکے
16اوربان کے اقتدار کے سال

الجزیرہ کے مطابق ڈیموکریٹس نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایسی کامیابی حاصل کی جو نصف صدی میں نہیں دیکھی گئی۔ ادارے کے مطابق ووٹ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیانیے پر گرفت کھوتے دکھائی دیے اور ریپبلکنز اس تاریخی شکست کی وضاحت میں مشکل کا شکار ہیں۔

الجزیرہ نے بتایا کہ یہ امریکی تاریخ کا مہنگا ترین انتخاب تھا جس میں تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ ہوئے، زیادہ تر اشتہارات پر۔ اس رقم کا بڑا حصہ ریپبلکن امیدواروں کو ملا۔

گلف نیوز کے مطابق اس نتیجے نے یورپ میں ہلچل مچا دی ہے اور سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اس سے قوم پرست دائیں بازو کی رفتار الٹ جائے گی۔ اس کے مطابق تقریباً 18 ماہ میں قوم پرست اور تارکینِ وطن مخالف رہنماؤں یا جماعتوں کو کم از کم آٹھ قومی انتخابی دھچکے لگے، جن میں رومانیہ، ہالینڈ، پرتگال، ہنگری، سویڈن، سربیا، برازیل اور امریکہ شامل ہیں۔

مثالوں میں پرتگال نے سوشلسٹ انتونیو جوزے سگورو کو آندرے وینتورا پر دو کے مقابلے میں ایک کے تناسب سے منتخب کیا، اور رومانیہ نے نیکوشور دان کو جارج سیمیون پر ترجیح دی۔ ہنگری میں وکٹر اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ہوا، جبکہ سربیا کے الیکساندر وچچ نے گزشتہ ماہ طلبہ کی قیادت میں احتجاجی تحریک کے سامنے شکست مان لی۔ برازیل میں لولا دا سلوا نے گزشتہ ماہ فلاویو بولسونارو کو معمولی فرق سے ہرایا۔ ہالینڈ میں گیرٹ وائلڈرز کی جماعت 11 نشستیں ہار گئی اور سویڈن میں سویڈن ڈیموکریٹس کی 11 نشستیں کم ہوئیں، جہاں بائیں بازو کی اپوزیشن نے معمولی اکثریت حاصل کی۔

گلف نیوز کے مطابق وسط 2025 کے بعد پولینڈ، چلی اور کولمبیا میں populist امیدوار صدر بنے۔ فرانس میں مارین لی پین تقریباً چھ ماہ بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں سب سے آگے ہیں۔ فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت غبن کی سزا کے خلاف ان کی اپیل پر اپریل کے اوائل تک فیصلہ دینا چاہتی ہے، اور خلاف فیصلے کی صورت میں انہیں الیکٹرانک ٹیگ کے ساتھ ووٹروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نیشنل ریلی کے سیبیستیاں شینو نے امریکی ووٹ کو ٹرمپ کی پالیسیوں کا مسترد کیا جانا قرار دیا اور ایران جنگ سے جڑی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ جرمنی کی اے ایف ڈی کی شریک سربراہ ایلس وائیڈل نے بھی نتیجے کا سبب ایران جنگ کے اثرات کو بتایا۔ نیشنل ریلی کے صدر جورڈن بارڈیلا نے کہا: "دوسرے ممالک میں جو ہوتا ہے اس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔

بوڈاپیسٹ کے پولیٹیکل کیپیٹل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پیٹر کریکو نے کہا: "جب اقتدار میں دراڑیں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں تو اس سے سلسلہ وار اثر پیدا ہو سکتا ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ فرانس کے مرکزی بائیں بازو کے صدارتی امیدوار رافائیل گلکسمین نے کہا: "سیاست میں کچھ بھی ناگزیر نہیں ہوتا" (انگریزی سے ترجمہ)۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا کہ الجزیرہ کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کی گنتی کے مطابق ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی۔ 5 نومبر کو خبر ڈاٹ پی کے نے بتایا کہ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ اور اس سے بڑھنے والی ایندھن کی قیمتوں نے ریپبلکن شکست پر اثر ڈالا۔

یہ کیوں اہم ہے

واشنگٹن کے نتائج ایران اور وسیع تر خطے سے متعلق امریکی پالیسی پر اثر ڈالتے ہیں، جو پاکستان کی سلامتی اور سفارت کاری سے براہِ راست جڑا ہے۔ یورپی سیاست دانوں نے ووٹ میں ایران جنگ سے جڑی ایندھن کی قیمتوں کو ایک عنصر قرار دیا۔ پاکستان میں خبر ڈاٹ پی کے کے اعداد کے مطابق 7 نومبر کو پیٹرول 346 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 378 روپے فی لیٹر تھا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

امریکی وسط مدتی انتخاباتیورپڈونلڈ ٹرمپ

اس خبر پر مزید