حکومت کی نئی آٹو پالیسی، گاڑیاں سستی اور برقی گاڑیوں کو فروغ دینے کا اعلان
وفاقی حکومت نے ہفتے کو نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ لگژری کے علاوہ گاڑیاں سستی ہوں گی اور برقی گاڑیوں کو فروغ ملے گا۔ پالیسی میں پانچ سال میں آٹو برآمدات کا ہدف 6 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- حکومت کے مطابق لگژری کے علاوہ تمام گاڑیاں نئی آٹو پالیسی سے سستی ہوں گی۔
- پانچ سال میں آٹو برآمدات کا ہدف 6 ارب ڈالر ہے۔
- برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 1 فیصد اور چارجنگ اسٹیشن مشینری پر کسٹم ڈیوٹی صفر ہے۔
- ایکسپریس نیوز کے مطابق پالیسی کو آئی ایم ایف کی منظوری درکار ہے۔
وفاقی حکومت نے ہفتے کو نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا جس کا مقصد برقی گاڑیوں اور مقامی صنعت کو فروغ دینا اور ایندھن کی درآمدی لاگت کم کرنا ہے۔ وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔
ہارون اختر نے کہا کہ لگژری گاڑیوں کے علاوہ تمام گاڑیاں سستی ہوں گی۔ دیگر اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی وسیع مشاورت کے بعد تیار کی گئی اور وزیراعظم نے اس میں خصوصی دلچسپی لی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے، جو باضابطہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
ہارون اختر کے مطابق پالیسی چھ شعبوں پر توجہ دیتی ہے: سستی گاڑیاں، مقامی سازی، برآمدات کا فروغ، گاڑیوں کی حفاظت، برقی سفری سہولت اور شفافیت۔ سی کے ڈی کٹس، پرزوں اور خام مال پر ڈیوٹیاں پانچ سال میں بتدریج کم کی جائیں گی۔ کار سازوں کے لیے مقامی سازی کے اہداف لازمی ہوں گے اور برآمدی مراعات سے منسلک ہوں گے۔
حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ پانچ سال میں آٹو شعبے کی مجموعی برآمدات 6 ارب ڈالر تک پہنچائی جائیں۔ ٹیک جوائس کے مطابق یہ 20 کروڑ ڈالر سے اضافہ ہوگا۔ ہارون اختر نے کہا کہ برآمدی اہداف حاصل کرنے والی کمپنیوں کو مقامی ٹیکسوں اور لیویز کی 5 فیصد واپسی کے ساتھ برآمدی نمو پر اضافی 10 فیصد مراعات ملیں گی، جبکہ اہداف پورے نہ کرنے والے مینوفیکچررز پر جرمانے عائد ہوں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پالیسی میں حفاظتی معیارات کے 45 اضافی تقاضے شامل ہیں۔ برقی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 1 فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ ماڈلز پر 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ پر 9 فیصد ہے۔ بڑے انجن والی بھاری تجارتی گاڑیوں پر اضافی ڈیوٹی لگے گی۔ چارجنگ اسٹیشن مشینری پر سیلز ٹیکس 1 فیصد اور کسٹم ڈیوٹی صفر ہے۔
عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ پالیسی سے درآمدی پیٹرولیم اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا: "اگر ہم ایندھن کی درآمدی لاگت کم کریں تو بچنے والے وسائل عوامی سہولیات، انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم پر خرچ کیے جا سکتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ ان کے مطابق برسوں کے بھاری درآمدی ڈیوٹی تحفظ سے صارفین کو متوقع فائدہ نہیں پہنچا۔
تارڑ نے کہا کہ ایک ہزار سی سی تک کی پیٹرول گاڑیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے باضابطہ پالیسی بنائی جا رہی ہے تاکہ تمام گاڑیاں کسٹمز اور ایکسائز کے محکموں کے ذریعے رجسٹر ہوں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پالیسی کو آئی ایم ایف کی منظوری بھی درکار ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
حکومت کے مطابق لگژری کے علاوہ گاڑیوں کی قیمتیں بتدریج کم ہوں گی، تاہم روپے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ ایک ہزار سی سی تک کی پیٹرول گاڑیاں خریدنے والوں کے لیے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں۔ برقی گاڑیاں خریدنے والوں اور چارجنگ اسٹیشن لگانے والوں کو کم سیلز ٹیکس اور چارجنگ مشینری پر صفر کسٹم ڈیوٹی کا فائدہ ملے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایندھن کی درآمد کم ہونے سے آلودگی گھٹے گی اور عوامی خدمات کے لیے وسائل بچیں گے۔



