ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ٹرمپ: ایران کے ساتھ معاہدہ یا دوبارہ کارروائی کا فیصلہ کرنا ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا "اسے ختم کرنے" کا فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام پیر کو تہران میں سکیورٹی مذاکرات کریں گے۔

الخليج العربي، مضيق هرمز الذي يصل الخليج العربي بخليج عمان.
الخليج العربي، مضيق هرمز الذي يصل الخليج العربي بخليج عمان. تصویر: Almajidy / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • ٹرمپ نے اتوار کو فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ فیصلے کی گھڑی آ گئی ہے۔
  • بعد میں انہوں نے کہا کہ آج حملہ نہیں ہوگا۔
  • سعودی، ترک اور پاکستانی حکام پیر کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملیں گے۔
  • ایران کے مطابق امریکا کو ثالثوں کے ذریعے پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں۔
یکم ستمبرایران پر آخری تصدیق شدہ امریکی حملے
3 نومبرامریکی وسط مدتی انتخابات
3,000 سے زیادہامریکی تعاون سے ہرمز سے گزرنے والے جہاز (سینٹکام، چھ ماہ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے یا فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے میں سے ایک کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ان کے الفاظ تھے: "کیا میں اسے ختم کر دوں، جو بہت آسان ہوگا، یا معاہدہ کروں؟ فیصلے کا وقت آتا جا رہا ہے۔"

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے پہلے کہا کہ ایسا اشارہ دینا نادانی ہوگی، پھر کہا: "نہیں، آج کوئی حملہ نہیں ہوگا۔" سی این بی سی کے مطابق ایران پر آخری تصدیق شدہ امریکی حملے یکم ستمبر کو ہوئے تھے اور ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملے دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ نے انٹرویو میں ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک زیرِ زمین گہرے مقام "پک ایکس ماؤنٹین" کو ممکنہ ہدف قرار دیا۔ ان کے بقول باقی تین جوہری مقامات تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ آبنائے ہرمز امریکا کے کنٹرول میں ہے اور خام تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر آ چکی ہے۔ سی این بی سی کے مطابق دونوں ملک اس راستے پر کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہیں، مجموعی تجارت اب بھی شدید متاثر ہے اور توانائی کی قیمتیں بلند ہیں۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی کے مطابق سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ترک انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن پیر کو تہران میں علاقائی سکیورٹی پر ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ ایران کے سکیورٹی سربراہ محسن رضائی بھی اجلاس میں موجود ہوں گے۔

سعودی نائب وزیر رائد کرملی نے کہا کہ یہ دورہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے اور اس کا مقصد قطر اور پاکستان کی ثالثی کی حمایت میں مکالمے اور سفارتی حل کو فروغ دینا ہے۔ سی این بی سی کے مطابق تینوں ممالک نے اگست میں یہ معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق قطری ثالث بھی اتوار کو تہران گئے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے سفارت کاری کی کھڑکی بند نہیں کی اور ثالثوں کے ذریعے امریکا کو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا یکطرفہ مطالبات پر قائم ہے اور بار بار "مکمل ہتھیار ڈالنے" کا لفظ استعمال کرتا ہے جسے کوئی ایرانی قبول نہیں کرتا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے سے ایران کے مؤقف نہیں بدلیں گے۔

کشیدگی سعودی عرب تک بھی پہنچی۔ حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ پر نئے حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس نے ایک بیلسٹک میزائل روکا اور صنعا میں دو لانچر تباہ کیے۔ اس سے قبل حملوں کے باعث ایئرپورٹ دو ہفتے سے زیادہ بند رہا تھا اور سعودی عرب نے اپنی سرمایہ کاری کانفرنس 2027 تک مؤخر کر دی۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان کے آرمی چیف تہران مذاکرات میں شریک ہیں، اور ایران کے خلاف امریکی اقدام خلیجی معیشتوں کو متاثر کر سکتا ہے جہاں لاکھوں پاکستانی کارکن رہتے ہیں، اور پاکستان میں تیل و ایندھن کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانآبنائے ہرمزسعودی عرب

اس خبر پر مزید