اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کا نو ماہ میں 37.1 ارب روپے قبل از ٹیکس منافع
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان) لمیٹڈ نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے نو ماہ میں 37.1 ارب روپے قبل از ٹیکس منافع ظاہر کیا، جو پچھلے سال 46.1 ارب روپے تھا۔ آمدنی 15 فیصد کمی کے ساتھ 53.6 ارب روپے رہی، جس کی بڑی وجہ بینک نے شرحِ سود میں کمی بتائی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- قبل از ٹیکس منافع 37.1 ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ مدت میں 46.1 ارب روپے تھا۔
- آمدنی سالانہ بنیاد پر 15 فیصد کم ہو کر 53.6 ارب روپے رہی۔
- ڈپازٹس سال کے آغاز سے 14 فیصد بڑھ کر 739 ارب روپے ہو گئے۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان) لمیٹڈ نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے نو ماہ کے لیے 37.1 ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع ظاہر کیا ہے۔ دی نیشن بزنس، بزنس ریکارڈر اور ڈیلی ٹائمز کے مطابق گزشتہ مدت میں یہ منافع 46.1 ارب روپے تھا، جبکہ بینک نے کارکردگی کو مستحکم قرار دیا۔
بینک کی آمدنی 53.6 ارب روپے رہی جو سالانہ بنیاد پر 15 فیصد کم ہے۔ بینک کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں کمی ہے۔
کل اخراجات پچھلی مدت کے مقابلے میں 1 فیصد کم رہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق بینک نے کہا کہ یہ اخراجات پر سخت نظم و ضبط کا نتیجہ ہے، باوجود اس کے کہ ملازمین اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی گئی۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق لاگت اور آمدنی کا تناسب 33 فیصد رہا۔
اس مدت میں بینک نے 1.2 ارب روپے کی خالص متوقع قرضہ جاتی نقصان (ای سی ایل) ریلیز ریکارڈ کی۔ بینک نے اس کی وجہ خطرات سے نمٹنے کا محتاط طریقہ اور ڈوبے ہوئے قرضوں کی مضبوط وصولیاں بتائیں۔
بیلنس شیٹ کے مطابق کل ڈپازٹس 739 ارب روپے رہے، جو سال کے آغاز سے 88.7 ارب روپے یعنی 14 فیصد زیادہ ہیں۔ ڈپازٹس کا 58 فیصد حصہ کرنٹ اکاؤنٹس پر مشتمل تھا۔
سال کے دوران خالص قرضے 31.5 ارب روپے بڑھے، جس کی وجہ کارپوریٹ قرضے اور مارگیج رہے۔ ڈیلی ٹائمز نے اس اضافے کو 15 لکھا ہے، مگر اپنی فہرست میں اکائی نہیں بتائی۔
بینک کے مطابق اس نے چار سال کے وقفے کے بعد حکومتِ پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی میں معاونت کی۔ یہ 3,750 ملین ڈالر کے یورو بانڈ اور 250 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈ کے اجرا کے ذریعے ہوا۔
بینک نے اس مدت کے لیے ریٹرن آن ایکویٹی 22.1 فیصد اور کیپیٹل ایڈیکویسی ریشو 19.1 فیصد ظاہر کیا۔
یہ کیوں اہم ہے
ایک بڑے بینک کے نتائج اس بینکاری شعبے کی صحت کی عکاسی کرتے ہیں جس پر پاکستانی بچت کنندگان اور قرض لینے والے انحصار کرتے ہیں۔ بینک کے مطابق شرحِ سود میں کمی سے آمدنی گھٹی، تاہم ڈپازٹس اور قرضوں میں اضافہ ہوا۔



