بائنینس: جعلی جاب انٹرویو اور میل ویئر سے 6.34 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری
بائنینس کے مطابق ہیکرز نے جعلی جاب انٹرویو، میل ویئر اور اندرونی اے آئی ٹول کے ذریعے 29 اکتوبر کو کرپٹو چرایا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ متاثرہ 6.34 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 98 فیصد دوبارہ پورے کر دیے گئے ہیں۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- بائنینس کے مطابق حملہ آوروں نے جعلی جاب انٹرویو اور میل ویئر سے اس کے والٹ سسٹم تک رسائی لی۔
- کمپنی کے مطابق حملہ مہینوں کی تیاری کے بعد 29 اکتوبر کو ہوا۔
- بائنینس کا کہنا ہے کہ 6.34 ارب ڈالر کے متاثرہ اثاثوں کا 98 فیصد پورا کر دیا گیا ہے اور صارفین کا نقصان کمپنی پورا کرے گی۔
بائنینس نے منگل کو جاری کردہ سکیورٹی رپورٹ میں بتایا کہ ہیکرز نے جعلی جاب انٹرویو، نقصان دہ سافٹ ویئر اور اندرونی اے آئی ٹول کو استعمال کر کے اس کے والٹ نظام میں نقب لگائی۔ حملہ 29 اکتوبر کو ہوا اور 6 ارب ڈالر سے زیادہ کے اثاثے چوری ہوئے۔
شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ حملہ آور مہینوں تیاری کرتے رہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ خلاف ورزی کسی ایک ملازم کے لیپ ٹاپ جیسے واحد کمزور نقطے سے ہوئی۔
بائنینس کے مطابق اس سرگرمی کا سراغ جون تک جاتا ہے۔ بائنینس والٹ کے ایک ڈیواوپس انجینئر نے اے آئی کوڈنگ ٹول تلاش کرتے ہوئے ہوم برو کی چھیڑ چھاڑ شدہ انسٹالیشن ڈاؤن لوڈ کر لی۔ کمپنی کے مطابق اس نے سرگرمی کا پتا لگا کر انجینئر کا آلہ بدل دیا اور اسناد تبدیل کیں، مگر انجینئر کا کردار اور والٹ ٹیم کے متعلقہ ساتھی ہیکر کی نظر میں آ چکے تھے۔
کمپنی کے مطابق ستمبر کے آغاز میں بھرتی کرنے والے بن کر حملہ آوروں نے ملازمت کے پلیٹ فارم پر ایک اور انجینئر سے رابطہ کیا اور انٹرویو لیا۔ اسے ایک اسائنمنٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کو کہا گیا جس میں نقصان دہ کوڈ چھپا تھا۔ بائنینس کے مطابق اسی رسائی سے اکتوبر کے آخر میں دو انجینئروں کے والٹ پر قابو حاصل کیا گیا۔
29 اکتوبر کو حملہ آوروں نے چرائی گئی لاگ اِن تفصیلات سے ایک سافٹ ویئر انجینئر کے کمپیوٹر میں لاگ اِن کیا۔ بائنینس کے مطابق پھر انہوں نے اندرونی والٹ سائننگ سروس تک غیر مجاز رسائی سے عام نکاسی کے عمل سے ہٹ کر لین دین شروع کیے۔ وائرڈ کے مطابق رقم بائنینس کے ہاٹ والٹس سے 10 سے زائد بلاک چینز پر منتقل ہوئی۔
ایف بی آئی نے 31 اکتوبر کو شمالی کوریا کے گروپ ٹریڈر ٹریٹر کو اس ہیک سے جوڑا، اور سراغ لگانے والی کمپنیوں نے بھی شمالی کوریائی ہیکرز کی نشاندہی کی۔ بائنینس براہ راست اس گروپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتی بلکہ ایف بی آئی کے تعین کا حوالہ دیتی ہے۔ ٹینگ نے خود حملہ شمالی کوریا سے منسوب نہیں کیا۔
بائنینس کے مطابق متاثرہ 6.34 ارب ڈالر کے اثاثوں کا 98 فیصد دوبارہ پورا کیا جا چکا ہے اور باقی کم لیکوئیڈ اثاثے خریدے جا رہے ہیں۔ کمپنی نے کچھ نکاسیاں عارضی طور پر محدود کیں، صارفین کے تمام نقصان کی ادائیگی کا وعدہ کیا اور اپنے ذخائر استعمال کیے۔ بتایا گیا ہے کہ بائنینس اور ٹیتھر، سرکل اور رپل سمیت شراکت داروں نے تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کیے۔ کوائن بیس نے متاثرہ والٹس کو منتقلی روک دی۔
بائنینس کے مطابق متاثرہ والٹ نظام اور اندرونی اے آئی ٹول نئے سرے سے بنا دیے گئے ہیں، متاثرہ آلات بدل دیے گئے اور اسناد ختم کر دی گئی ہیں۔ کمپنی اپنے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے آزاد ماہر بھی مقرر کر رہی ہے اور چوری شدہ رقم کا سراغ لگانے اور اسے منجمد کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ بائنینس نے کہا: "ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، اور ہم اپنے صارفین، شراکت داروں اور وسیع صنعت کو جس تشویش، خلل اور بے یقینی کا سامنا ہوا اس پر معذرت خواہ ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔
یہ کیوں اہم ہے
جعلی ملازمت کی پیشکش اور چھیڑ چھاڑ شدہ ڈاؤن لوڈ جیسے طریقے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کرپٹو پلیٹ فارمز استعمال کرنے والے پاکستانی صارفین کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں، جیسا کہ ڈیسک کا جائزہ ہے۔



