میڈرڈ کے جنوب میں تیز رفتار ٹرینوں کا تصادم، کم از کم 68 ہلاک
کاستیا لا مانچا میں رینفے کی تیز رفتار ٹرین کھڑی ہوئی اریو ٹرین سے ٹکرا گئی، جس میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے۔ اسپین میں جمعرات سے تین روزہ قومی سوگ شروع ہو گیا۔

- حکام کے مطابق کم از کم 68 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے، جن میں 15 کی حالت بہت نازک ہے۔
- بدھ کو میڈرڈ کے جنوب میں رینفے کی ٹرین کھڑی ہوئی اریو ٹرین کے پچھلے حصے سے ٹکرائی۔
- اسپین میں تین روزہ قومی سوگ ہے اور وزیراعظم نے مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔
میڈرڈ کے جنوب میں کاستیا لا مانچا میں بدھ کی صبح دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 68 افراد ہلاک ہو گئے۔ وزیر صحت مونیکا گارسیا کے مطابق 80 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 15 کی حالت بہت نازک ہے۔ علاقائی حکومت کے سربراہ ایمیلیانو گارسیا پیج نے 68 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق رینفے کی ٹرین اریو کی کھڑی ہوئی ٹرین کے پچھلے حصے سے ٹکرائی۔ رینفے کا کہنا ہے کہ اس کی ٹرین اریو کی اس ٹرین سے ٹکرائی جو ایسی وجوہات سے رکی ہوئی تھی جو کمپنی کے علم میں نہیں۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق اریو نے ہنگامی پروٹوکول فعال کیے، جبکہ انفراسٹرکچر مینیجر ایڈف نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
وزیر ٹرانسپورٹ اوسکر پوئنتے نے بتایا کہ آگے ایک ٹرین کھڑی ہونے کی وجہ سے سرخ سگنل فعال تھا، اس کے باوجود رینفے کی سروس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے مطابق سرخ سگنل کمپیوٹر مواصلاتی خرابی کے باعث جاری ہوا اور بعد میں ٹرین دوبارہ چلانے کا غلط فیصلہ کیا گیا۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق انہوں نے خودکار کنٹرول سسٹم ناکام ہونے کے بعد ایک ٹرین کو چلنے دینے کے فیصلے کو ناقابلِ فہم قرار دیا اور کہا کہ ٹرین ٹکرانے سے پہلے تقریباً 25 کلومیٹر چلی۔
ریسکیو ٹیموں نے رات بھر ملبے میں زندہ بچ جانے والوں اور لاشوں کی تلاش جاری رکھی اور دھات ہٹانے کے لیے کرینیں استعمال کیں۔ رینفے کی ٹرین سے نکالے گئے ایک برطانوی سیاح نے بتایا کہ ڈبے تباہ ہو گئے تھے اور ہر طرف خون تھا۔ ریڈ کراس کے کارکن موقع پر مدد فراہم کرتے رہے۔ لاپتا افراد کی شناخت کے لیے حکام میڈرڈ، طلیطلہ، قرطبہ اور اشبیلیہ میں لواحقین سے ڈی این اے نمونے لے رہے ہیں۔
قریبی قصبے اوردا کے رہائشیوں نے فوراً مدد کی۔ 78 سالہ مقامی فارماسسٹ انتونیو گارسیا جائے حادثہ پر پہنچنے والے پہلے افراد میں تھے اور اپنی دکان سے ابتدائی طبی امداد کا سامان، درد کش ادویات، سکون آور ادویات اور کمبل لے آئے۔ قصبے کے اسپورٹس ہال کو زندہ بچ جانے والوں کے مرکز میں بدل دیا گیا اور پرائمری اسکول متاثرین کے لواحقین کے لیے مخصوص کیا گیا۔ آنا نامی خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر ٹرین میں سوار تھے اور ان کا نام کسی فہرست میں نہیں تھا۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور مکمل تحقیقات اور ریل کی حفاظت مضبوط بنانے کے اقدامات کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا: "It is not acceptable for a country like Spain to endure two high-speed train accidents in the same year"۔ ان کے مطابق دونوں حادثات کی وجوہات بظاہر غیر متعلق ہیں۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق جنوری میں انہی کمپنیوں کی تیز رفتار ٹرینوں کے اسی لائن پر حادثے میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ 2013 میں سانتیاگو دے کومپوستیلا میں پٹڑی سے اترنے کے بعد، جس میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے، یورپ کا سب سے مہلک ٹرین حادثہ ہے۔ اسپین میں عام انتخابات 29 نومبر کو ہیں اور اپوزیشن پیپلز پارٹی نے آج اپنی تمام انتخابی سرگرمیاں منسوخ کر دیں۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق یورپی کمیشن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسپین کی تقریباً 4000 کلومیٹر تیز رفتار لائنوں کی دیکھ بھال پر سرمایہ کاری دیگر بڑے یورپی ممالک سے پیچھے رہی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
بیرون ملک ریل حادثات سے پاکستان کے اپنے ریلوے نظام کی حفاظت پر سوالات اٹھتے ہیں، جس پر بہت سے قارئین انحصار کرتے ہیں۔



