سینیٹ میں آبادی میں تیز اضافے پر قرارداد متفقہ طور پر منظور
سینیٹ نے جمعرات کو آبادی میں تیزی سے اضافے کو روکنے کے لیے مشترکہ قومی کوششوں کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد شیری رحمان نے پیش کی اور خبردار کیا کہ 2050 تک آبادی 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

- سینیٹ نے جمعرات کو آبادی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی
- شیری رحمان نے 2050 تک 39 کروڑ آبادی کا خدشہ ظاہر کیا
- انہوں نے حکومتوں، پارلیمان، میڈیا اور سماجی رہنماؤں کی مشترکہ قومی حکمت عملی کا مطالبہ کیا
سینیٹ نے جمعرات کو ملک میں آبادی کے تیز رفتار اضافے پر قابو پانے کے لیے مربوط قومی کوششوں کا مطالبہ کرنے والی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ اے پی پی کے مطابق قرارداد کا مقصد یہ ہے کہ ملک کا ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ "ڈیموگرافک ٹائم بم" نہ بن جائے۔
قرارداد پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے پیش کی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اجلاس کی صدارت پریزائیڈنگ آفیسر شہادت اعوان نے کی۔
شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ 2050 تک پاکستان کی آبادی 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق آبادی بڑھنے کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی خوراک، پانی، تعلیم اور صحت کی سہولتوں پر بھاری دباؤ ڈال رہی ہے۔ جنگ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ نہ ہونا ماؤں کی صحت اور جان کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "فوری اقدامات ناگزیر ہیں"۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کی تولیدی صحت، بچوں کی غذائیت اور تعلیم تک رسائی سمیت مربوط قومی حکمت عملی کا مطالبہ کیا۔
جنگ کے مطابق انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پارلیمان، میڈیا، علما اور کمیونٹی رہنماؤں کو آبادی پر مشترکہ قومی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
اسی اجلاس میں سینیٹ نے پانچ ترمیمی بل بھی منظور کیے، جن میں نیشنل رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی، لائف انشورنس نیشنلائزیشن، محفوظ دستاویزی مواد اور سینٹرز آف ایکسیلنس سے متعلق بل شامل ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وقفہ سوالات میں وزارت انسانی حقوق نے بتایا کہ 2021 سے 2026 کے دوران ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 41,428 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے 8,758 صرف 2025 میں سامنے آئے۔ پنجاب میں 14,498، سندھ میں 10,705، خیبر پختونخوا میں 9,919، بلوچستان میں 3,680 اور اسلام آباد میں 2,626 کیس ریکارڈ ہوئے۔
یہ کیوں اہم ہے
آبادی میں اضافہ روزگار، اسکولوں، صحت کی سہولتوں اور سرکاری اخراجات کے ذریعے ہر پاکستانی گھرانے پر اثر ڈالتا ہے۔ قرارداد اسے خوراک، پانی، تعلیم اور صحت کی سہولتوں پر دباؤ سے جوڑتی ہے۔



