وزیراعظم کا سکیورٹی اجلاس، خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب کے پیکیج کا جائزہ
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں خیبرپختونخوا کیلئے وفاق کے 160 ارب روپے کے پیکیج پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی غور ہوا۔

- وزیراعظم نے سکیورٹی پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں خیبرپختونخوا پر توجہ رہی۔
- 24 نیوز کے مطابق انہوں نے بدلتا، نکھرتا، مضبوط خیبرپختونخوا پروگرام کیلئے 160 ارب روپے کا اعلان کیا۔
- ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر غور ہوا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، خصوصاً خیبرپختونخوا کا جائزہ لیا گیا۔ روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے صوبے کیلئے وفاق کے 160 ارب روپے کے پیکیج پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔
24 نیوز کے مطابق وزیراعظم نے بدلتا، نکھرتا، مضبوط خیبرپختونخوا پروگرام کیلئے 160 ارب روپے کا اعلان کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت صوبے کے عوام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
اجلاس میں اعلیٰ سول اور عسکری حکام، وفاقی وزراء اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اب تک کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔
24 نیوز کے مطابق اجلاس میں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے امکان پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے اندرونی سکیورٹی کی صورتحال پر بات کی اور صوبے میں امن کی بحالی کے جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کی سکیورٹی اور اے آر ڈی سی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کیلئے انٹیلیجنس آپریشنز کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ ہوا۔
وزیراعظم نے وفاقی، صوبائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی ہدایت کی۔ مقامی آبادی کو شامل کرنے اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی مضبوط کرنے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔
پائیدار امن، جان و مال کا تحفظ، بہتر طرز حکمرانی اور سماجی و معاشی ترقی کو قومی ترجیحات قرار دیا گیا۔ اجلاس میں تعلیم، صحت، روزگار، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ رہی، جبکہ وفاقی حکومت عوامی فلاح، روزگار کے مواقع، معاشی امکانات اور شکایات کے ازالے میں معاونت جاری رکھے گی۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ پیکیج خیبرپختونخوا میں ترقی اور سہولیات کیلئے ہے، جہاں سکیورٹی اور حکمرانی کے سنگین مسائل ہیں۔ صوبے کے رہائشی اخراجات اور زیر غور سکیورٹی فیصلوں دونوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔



