ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندے تہران پہنچ گئے، کشیدگی کم کرنے کی کوشش

پاکستان کے آرمی چیف، سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس سربراہ نے پیر کو تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ سعودی عرب کے مطابق مقصد مذاکرات کے راستے کھولنا اور فوجی کشیدگی کی واپسی روکنا ہے۔

Tehran skyline- View from Tabiat Bridge - Alborz Mountains on background
Tehran skyline- View from Tabiat Bridge - Alborz Mountains on background تصویر: Mhsheikholeslami / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر، شہزادہ خالد بن سلمان اور ابراہیم کالن نے پیر کو تہران کا دورہ کیا۔
  • وفد مکہ دفاعی معاہدے کے تین رکن ممالک کی نمائندگی کر رہا تھا۔
  • ایران نے ماحول کو بہت مثبت قرار دیا، تاہم کسی پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا۔
7 اگستمکہ معاہدے پر دستخط
پیروفد کا دورۂ تہران

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم کالن پیر کو تہران پہنچے۔ ڈی ڈبلیو اور عرب نیوز کے مطابق انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، جن میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے محسن رضائی بھی شامل تھے۔

تینوں رہنما مکہ دفاعی معاہدے کی نمائندگی کر رہے تھے، جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا فوجی اتحاد ہے۔ عرب نیوز کے مطابق یہ معاہدہ 7 اگست کو طے پایا اور یہ اس کی پہلی بڑی ثالثی کوشش ہے۔ معاہدے کے تحت کسی رکن پر بیرونی حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔

سعودی عرب نے کہا کہ دورے کا مقصد مذاکرات کے راستے کھولنا اور فوجی کشیدگی کی واپسی روکنا ہے۔ ایجنڈا سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق ایک سینئر پاکستانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ بات چیت میں خطے کے لیے عدم جارحیت کا نیٹ ورک، امریکا ایران مذاکرات، سعودی عرب پر حوثی حملے، آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی زیر بحث آئے۔

ایک اور اہلکار کے مطابق عاصم منیر نے ایسا حل پیش کیا جس میں واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے کچھ گنجائش ہو، اور تین رکن ممالک کے ساتھ قطر ثالث ہوں۔ رائٹرز کے ایک ذریعے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے منیر کو سفارت کاری آزمانے کی اجازت دی تھی۔

ایران نے بات چیت کے ماحول کو بہت مثبت قرار دیا، تاہم کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا۔ محسن رضائی نے کہا: "ہمارے درمیان بہت اچھی بات چیت ہوئی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نئی فضا جنم لے رہی ہے۔" ایرانی حکام نے دورے کو اعتماد سازی کا قدم کہا اور آبنائے ہرمز پر اپنا مؤقف دہرایا۔

رپورٹس کے مطابق رضائی نے اگلے دن سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خامنہ ای نے ایران کے مفادات کے تحفظ اور جنگ ختم کرنے کی تہران کی شرائط برقرار رکھنے پر زور دیا۔ پزشکیان بعد میں ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم میں گئے اور ولادیمیر پوتن اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملے۔

بعض حلقوں نے اس سفارتی کوشش کو ایران کے لیے انتباہ بھی قرار دیا۔ صدر پزشکیان کے میڈیا مشیر علی اصغر شفیعیان نے کہا: "صرف اس ملاقات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کسی حملے سے پہلے دیا جانے والا الٹی میٹم تھا۔" عرب نیوز کے مطابق قطری ثالثوں نے اتوار کو تہران کو نیا مسودہ معاہدہ دیا اور ہفتے کے آخر تک جواب کی امید ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان ثالثی کرنے والے تین ممالک میں شامل ہے، اور خطے میں نئی جنگ کا براہ راست اثر پاکستان اور خلیج میں کام کرنے والے پاکستانیوں پر پڑے گا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانمکہ دفاعی معاہدہعاصم منیر

اس خبر پر مزید