بیرسٹر سلمان صفدر کی اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات
بیرسٹر سلمان صفدر نے پیر کو اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے 40 منٹ ملاقات کی۔ عمران خان سے وہ سات ماہ اور بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد ملے۔

- سلمان صفدر کی عمران خان سے سات ماہ اور بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد ملاقات ہوئی۔
- ملاقات جیل حکام نے کرائی، یہ شام 4:30 بجے ہوئی اور 40 منٹ جاری رہی۔
- دونوں نے بعض قانونی معاملات اور مقدمات پر نئی ہدایات دیں۔
پی ٹی آئی کے بانی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے پیر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات جیل حکام نے کرائی اور 40 منٹ جاری رہی۔
سلمان صفدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ملاقات کی تصدیق کی۔ انہوں نے لکھا: "آج شام 4:30 بجے اڈیالہ جیل حکام نے مسٹر عمران خان اور اہلیہ بشریٰ عمران سے 40 منٹ کی ملاقات کرائی" (انگریزی سے ترجمہ)۔
جیو نیوز کے مطابق سلمان صفدر نے کہا کہ جیل انتظامیہ سے بار بار درخواستوں کے بعد وہ عمران خان سے سات ماہ اور بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد مل سکے۔
سلمان صفدر کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے انہیں جیل میں اپنی صحت اور رہائش کے حالات سے آگاہ کیا اور بعض قانونی معاملات اور مقدمات پر نئی ہدایات دیں۔ 24 نیوز کے مطابق انہوں نے صحت، جیل کی سہولتوں یا ہدایات کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔
سلمان صفدر نے کہا کہ 40 منٹ تمام زیر التوا مقدمات اور قانونی امور پر بات کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔
جیو نیوز کے مطابق عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں ہیں۔ وہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ (بلغاری جیولری سیٹ) کیسز میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ توشہ خانہ کے دو دیگر ریفرنسز میں سزائیں اپیلوں کے فیصلے تک معطل ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے ہنگاموں سے متعلق کئی مقدمات بھی ان کے خلاف ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ستمبر 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل حکام کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کی تنہائی ختم کرنے اور جیل قواعد کے مطابق سہولتیں یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی نے اکتوبر میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا۔ 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا اور سہیل آفریدی سمیت صوبائی کابینہ کے کئی ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستانی قارئین کے لیے جیل میں قید پی ٹی آئی بانی اور ان کی قانونی ٹیم کے درمیان رابطہ اہم سیاسی پیش رفت ہے، اور دی گئی ہدایات ان کے زیر التوا مقدمات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔



