ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا4 ذرائع سے تصدیق شدہ

قطری ثالث تہران واپس، ایران امریکا معاہدے کے لیے کوشش

قطری ثالث جمعے کو ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرانے کے معاہدے کے لیے تہران پہنچ گئے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ قطر کی تجاویز ناقابل قبول ہیں۔

Photo: buildings, city, cityscape, house
Photo: buildings, city, cityscape, house تصویر: mostafa_meraji / Pixabay
اہم نکات
  • قطری وفد تہران میں، سربراہی وزیراعظم و وزیر خارجہ کے سینئر مشیر کر رہے ہیں
  • ایرانی عہدیدار کے مطابق قطر کی تجاویز ناقابل قبول ہیں
  • ٹرمپ کا رابطے کا اعتراف، بڑے حملوں کی دھمکی برقرار
  • آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع
23ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں
4بارودی سرنگوں سے ٹکرانے والے جہاز (ایران کے مطابق)

آئی آر این اے، رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق قطری ثالث جمعے کو ایران اور امریکا کی جنگ ختم کرانے کے معاہدے کے لیے تہران واپس پہنچے۔ رائٹرز کو ایک عہدیدار نے بتایا کہ بات چیت امریکا کے ساتھ مشاورت سے ہو رہی ہے۔

قطری وفد کی قیادت قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ کے ایک سینئر مشیر کر رہے ہیں۔ وفد کی سینئر ایرانی حکام سے ملاقات طے ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر بات ہوگی۔

سفارتی عمل سے باخبر ایک عہدیدار نے بدھ کو سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی کہ قطری ثالثوں نے ایران کو جنگ ختم کرنے کا نیا مسودہ پیش کیا تھا۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے کہا کہ قطر کی تجاویز ناقابل قبول ہیں اور تہران جوہری معاملے پر اپنا مؤقف نہیں بدلے گا۔

دونوں فریقوں میں ترتیب پر اختلاف ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ جوہری معاملہ شروع ہی سے مذاکرات میں شامل ہو۔ تہران چاہتا ہے کہ امریکا پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایران کی گیس اور تیل کی فروخت محدود کرنے والی پابندیاں ہٹائے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران سفارت کاری کو موقع دے رہا ہے اور گزشتہ ماہ پیش کی گئی تجویز کے خیالات پر ثالثوں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں، جبکہ ایران اب بھی اسے نئی جنگ بندی کی بنیاد بنانا چاہتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے نائب صدر جے ڈی وانس کے محسن رضائی کو بھیجے گئے خط کا جواب نہیں دیا۔ ٹرمپ نے اعلیٰ سطحی رابطے کا اعتراف کیا، تاہم کہا کہ اس کا مقصد وسیع امن مذاکرات کی بحالی نہیں بلکہ ایران میں طبی امداد پہنچانا ہے۔ انہوں نے بڑے حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی برقرار رکھی ہے۔

برطانوی بحریہ کی نگران تنظیم کے مطابق جمعرات کی شام آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر کو پراجیکٹائل لگا۔ یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ فی الحال عملے کے زخمی ہونے یا ماحولیاتی اثر کی کوئی اطلاع نہیں۔ ایران کے مطابق امریکا کی تجویز کردہ، اور اس کے نزدیک غیرقانونی، راستوں سے گزرنے والے چار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔

امریکی محکمہ دفاع نے مزید دو فوجیوں کی ہلاکت شامل کی، جس سے ایران جنگ میں مجموعی ہلاکتیں 23 ہو گئیں۔ ان میں 11 دشمن کی فائرنگ سے اور 12 غیر جنگی حالات میں ہلاک ہوئے۔ ادھر سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ مکہ کے علاقے میں حوثیوں کا ڈرون تباہ کیا گیا، جبکہ رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے کی کسی کوشش کی تردید کی۔

یہ کیوں اہم ہے

امریکا ایران تنازع خلیجی سلامتی، تیل کی فراہمی اور خلیج میں کام کرنے والے بہت سے پاکستانی کارکنوں کے روزگار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانقطرآبنائے ہرمز

اس خبر پر مزید