انقرہ میں عسکری ڈرون مقابلہ: پاکستان دوسرے نمبر پر رہا
پاکستان نے انقرہ میں ہفتے کو ہونے والے پہلے بہترین بین الاقوامی عسکری ڈرون ٹیم مقابلے 2026 میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ترکیہ پہلے، اٹلی تیسرے اور فرانس چوتھے نمبر پر رہا، مقابلے میں 33 ممالک شریک تھے۔

- پاکستان نے انقرہ میں BIMDTC-2026 میں دوسری پوزیشن حاصل کی
- ترکیہ اول، اٹلی تیسرے اور فرانس چوتھے نمبر پر رہا
- 33 ممالک کے عسکری ڈرون آپریٹرز نے حصہ لیا
پاکستان نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہفتے کو منعقدہ پہلے بہترین بین الاقوامی عسکری ڈرون ٹیم مقابلے 2026 (BIMDTC-2026) میں دوسری پوزیشن حاصل کر لی۔ ترکیہ چیمپئن رہا، جبکہ اٹلی تیسرے اور فرانس چوتھے نمبر پر آیا۔
مقابلے میں 33 ممالک کے عسکری ڈرون آپریٹرز شریک ہوئے۔ اسلام آباد میں ترک سفارت خانے نے 25 اکتوبر 2026 کی ایکس پوسٹ میں نتائج کی تصدیق کی اور ترک و پاکستانی ٹیموں کو مبارک باد دی۔ سفارت خانے کے مطابق ان کی کارکردگی بغیر انسانی فضائی نظاموں میں مہارت، درستگی اور بڑھتے تجربے کا ثبوت ہے۔
رپورٹ کیے گئے قواعد کے مطابق ہر ملک زیادہ سے زیادہ تین ارکان کی ٹیم بھیج سکتا تھا۔ ہر ٹیم میں کم از کم دو مستند فرسٹ پرسن ویو (FPV) ڈرون پائلٹ لازمی تھے، جو حاضر سروس فوجی یا ریزرو اہلکار ہوں۔ FPV ٹیکنالوجی میں آپریٹر براہِ راست کیمرے کی تصویر کے ذریعے ڈرون اڑاتا ہے اور اسے طیارے کے اپنے زاویے سے منظر ملتا ہے۔
شرکا کو مقررہ راستے پر ڈرون اڑا کر کم سے کم وقت میں کورس مکمل کرنا تھا۔ سب سے تیز کارکردگی دکھانے والی ٹیمیں فائنل میں پہنچیں، جہاں کنٹرول، درست رہنمائی اور دباؤ میں کارکردگی کی بنیاد پر حتمی نتائج طے ہوئے۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق یہ کامیابی ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان اپنے ملکی ڈرون پروگرام وسیع کر رہا ہے اور اتحادیوں، خصوصاً ترکیہ، کے ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی میں شراکت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ مختصر عسکری تصادم کے دوران پاکستان نے ترک ساختہ اور مقامی طور پر تیار کردہ ڈرون استعمال کیے، جن میں ترک YIHA-III اور ASISGUARD SONGAR کے ساتھ پاکستانی شاہپر-II شامل بتائے گئے۔ شاہپر-II گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سولیوشنز (GIDS) نے تیار کیا، جو سرکاری دفاعی ادارہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے قریبی عسکری تعلقات میں تربیت، دفاعی سازوسامان اور تکنیکی تعاون شامل ہیں۔ اس کے مطابق اگست میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ میں سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کی اطلاع سامنے آئی تھی، جس میں ایک ملک پر حملے کو تینوں پر حملہ سمجھنے کا اجتماعی دفاعی عہد شامل ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
اس نتیجے کو قومی کامیابی اور پاکستان کے عسکری ڈرون آپریٹرز کی تکنیکی مہارت کی علامت کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے، جبکہ ملک اپنے ڈرون پروگرام اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات جاری رکھے ہوئے ہے۔



