ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا2 ذرائع سے تصدیق شدہ

اولیشکی میں جنگ بندی تیسرے روز بھی برقرار، امدادی قافلہ آج داخل ہونے کو تیار

اولیشکی کے اطراف روس اور یوکرین کے درمیان مقامی جنگ بندی تیسرے دن میں داخل ہو گئی ہے۔ ایک یوکرینی عہدیدار کے مطابق روس کے زیرِ قبضہ شہر میں جمعہ کو انسانی امداد پہنچنے کی توقع ہے۔

Photo: ukraine, ukrainian flag, dove, peace
Photo: ukraine, ukrainian flag, dove, peace تصویر: neelam279 / Pixabay
اہم نکات
  • اولیشکی کے اطراف روس یوکرین مقامی جنگ بندی تین دن سے برقرار ہے۔
  • یوکرینی عہدیدار کے مطابق شہر میں پھنسے تقریباً 2,000 افراد تک جمعہ کو امداد پہنچنے کی توقع ہے۔
  • وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے جنگ بندی کرانے میں مدد کی۔
6 دنجنگ بندی کی منصوبہ بند مدت
تقریباً 2,000اولیشکی میں پھنسے افراد
1,214روس کے مطابق رات بھر مار گرائے گئے ڈرون

دی انڈیپنڈنٹ اور فرانس 24 کے مطابق روس کے زیرِ قبضہ شہر اولیشکی کے اطراف روس اور یوکرین کے درمیان مقامی جنگ بندی تیسرے روز بھی قائم ہے، اور ایک یوکرینی عہدیدار نے کہا ہے کہ جمعہ کو شہر میں انسانی امداد کا مشن داخل ہونے والا ہے۔

لڑائی میں یہ وقفہ منگل کی صبح 3 بجے شروع ہوا۔ اسے چھ دن جاری رہنا ہے تاکہ اولیشکی میں پھنسے تقریباً 2,000 افراد تک خوراک، دوا اور پانی پہنچایا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق وہاں کئی لوگ بھوک کا شکار ہیں۔ انخلا کے راستے ہفتے کے آخر میں کھولے جانے ہیں۔

دمیترو لوبینیٹس نے کہا: "The ceasefire has been in place for 54 hours now"۔ یانا لانتراتووا نے کہا: "Both sides are fully honoring their commitments, and no violations have been recorded"۔

جنگ بندی کے دوران فوجی یونٹ بارودی سرنگیں صاف کر رہے ہیں، اور روسی انجینئر اولیشکی کی سڑکوں سے سرنگیں ہٹا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق مقامی لوگ روس یا یوکرین کی طرف جا سکیں گے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ عمل کیسے ہو گا۔

جنگ بندی سے دریا کے پار یوکرین کے زیرِ کنٹرول شہر خرسون میں بھی غیر معمولی سکون ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق میلانیا ٹرمپ نے اس انتظام میں مدد کی، جبکہ پوپ لیو چہاردہم نے بھی جنگ بندی پر زور دیا۔

یہ جنگ بندی صرف اولیشکی کے علاقے تک محدود ہے اور وسیع جنگ، جو 4.5 سال سے زیادہ پہلے روس کے مکمل حملے سے شروع ہوئی، جاری ہے۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق فضائی دفاع نے رات بھر 1,214 یوکرینی ڈرون مار گرائے، اور ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق تقریباً نصف ماسکو کی طرف جا رہے تھے۔ یوکرین کے مطابق روس نے ملک بھر میں سات مقامات پر 112 ڈرون داغے۔

رپورٹس کے مطابق ماسکو اور کیف آئندہ ماہ روس، یوکرین اور امریکا کے ممکنہ سہ فریقی مذاکرات سے قبل واشنگٹن کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا کے مطابق وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف جمعہ سے شروع ہونے والے جی 20 وزارتی اجلاس کے لیے اٹلانٹا، جارجیا جائیں گے۔

یہ کیوں اہم ہے

روس یوکرین جنگ پاکستان میں بغور دیکھی جاتی ہے اور عالمی غذائی و توانائی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔ یہ جنگ بندی اور آئندہ ماہ ممکنہ سہ فریقی مذاکرات اسی وسیع منظرنامے کا حصہ ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

یوکرینروسجنگ بندی

اس خبر پر مزید