کیف پر روسی حملوں کے بعد اولیشکی میں جنگ بندی برقرار دکھائی دیتی ہے
روس کے زیر قبضہ شہر اولیشکی میں منگل کو صبح 3 بجے مقامی جنگ بندی شروع ہوئی، جو کیف پر حملوں کے چند گھنٹے بعد ہوئی۔ دونوں فریقوں نے ڈرون حملے روک دیے اور تقریباً 2,000 محصور شہریوں کے انخلا کی تیاری ہے۔

- یوکرینی حکام کے مطابق جنگ بندی منگل صبح 3 بجے شروع ہوئی اور اتوار رات 11 بجے تک رہے گی
- رات بھر روسی ڈرونز اور میزائلوں سے کیف میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوئے
- شہریوں کا انخلا جمعرات یا جمعے کو شروع ہونا ہے
دی گارڈین کے مطابق روس کے زیر قبضہ جنوبی یوکرینی شہر اولیشکی میں منگل کو مقامی انسانی ہمدردی کی جنگ بندی برقرار دکھائی دی اور دونوں فریقوں نے ڈرون حملے روک دیے۔ یہ جنگ بندی صبح 3 بجے شروع ہوئی۔ یوکرینی حکام کے مطابق اسے اتوار رات 11 بجے تک جاری رہنا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس سے کچھ ہی دیر پہلے پیر کی رات روس نے کیف کو کئی بار نشانہ بنایا۔ جنگ بندی کا اطلاق باقی یوکرین پر نہیں ہوتا۔ گارڈین کے مطابق روسی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے دارالحکومت میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔ ایک جامعہ کے کیمپس، دریائے نیپرو پر بنے پل اور میٹرو کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ دس دیگر علاقوں پر بھی حملے ہوئے۔ پل ٹریفک کے لیے بند ہے اور کچھ لوگ پیدل گزر کر کام پر جا رہے ہیں۔
اولیشکی دریائے نیپرو پر واقع ہے اور مخالف کنارے پر واقع شہر خیرسون سے تقریباً 3 میل دور ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دریا کے پار محاذ چار سال میں پہلی بار پرسکون رہا۔ گارڈین کے مطابق شہر میں 1,500 سے 2,000 لوگ روسی ناکہ بندی میں رہ رہے ہیں۔ دکانوں میں خوراک کی آخری ترسیل مئی میں ہوئی تھی اور بہت سے لوگ بھوک کا شکار ہیں۔ یوکرینی فوج نے ڈرونز سے خوراک گرائی ہے، جبکہ مقامی لوگوں کے بقول روسی سکیورٹی فورسز اسے اٹھانے والوں کو حراست میں لے لیتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے اس انسانی مشن کی درخواست کی تھی۔ الجزیرہ کے مطابق امریکا کا کہنا ہے کہ جنگ بندی انہی کی کوشش سے ہوئی، جبکہ ایک اور رپورٹ میں ویٹیکن کے ساتھ متضاد دعووں کا ذکر ہے۔ پوپ لیو چہاردہم، اقوام متحدہ، یورپی یونین کے حکام اور کونسل آف یورپ نے بھی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ انخلا جمعرات یا جمعے کو شروع ہونا ہے اور بسیں رہائشیوں کو مقبوضہ کریمیا اور روس لے جائیں گی۔
دوسری جانب فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار سٹورے نے ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی، جسے انہوں نے واضح اور بامعنی قرار دیا۔ سٹورے نے اشارہ دیا کہ بڑے اختلافات باقی ہیں۔ یہ رابطہ اگلے ماہ ابوظہبی میں متوقع روس، یوکرین اور امریکا کے مذاکرات سے منسلک بتایا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے مطابق وہ اپنے اپنے ملک کی حیثیت سے شریک ہوئے، پورے یورپ کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے انہیں آگاہ کیا اور روس کو کشیدگی کم کرنے کے حقیقی اقدامات کی ضرورت بتائی، خصوصاً توانائی کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو جنگ طول دینا بند کرنا چاہیے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے اس اقدام پر شدید شکوک کا اظہار کیا اور کہا کہ اس پر ان سے اتفاق نہیں کیا گیا تھا۔
اس ماہ کے اوائل میں پوتن نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، مگر روس کی شرائط پر، جن میں پورے ڈونباس کی حوالگی اور خیرسون اور زاپوریژیا میں مزید علاقہ شامل ہے۔ زیلنسکی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یوکرین موجودہ محاذ پر جنگ منجمد کرنے والے معاہدے کے لیے تیار ہے، مگر مقبوضہ زمین کو روسی تسلیم نہیں کرے گا۔
یہ کیوں اہم ہے
یوکرین جنگ بڑی طاقتوں کا تنازع ہے جو عالمی سطح پر ایندھن اور خوراک کی قیمتوں پر اثر ڈالتا ہے، اور اس کے اثرات پاکستان تک پہنچتے ہیں۔



