ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ناروے اور فن لینڈ کے رہنماؤں کی پیوٹن سے بات، یورپ میں اختلاف

فن لینڈ کے صدر اور ناروے کے وزیراعظم نے منگل کو پیوٹن سے 90 منٹ بات کی۔ یہ رابطہ مغربی یورپ کی دیرینہ روش سے ہٹ کر تھا اور یورپ میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

Night view of the Moscow Kremlin , meaning "fortress inside a city", a fortified complex in the center of Moscow , Russia. It is the best known of the kremlins…
Night view of the Moscow Kremlin , meaning "fortress inside a city", a fortified complex in the center of Moscow , Russia. It is the best known of the kremlins… تصویر: Diego Delso / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • فن لینڈ کے الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے یوناس گار اسٹوئرے کی پیوٹن سے 90 منٹ بات
  • سویڈن، ڈنمارک، پولینڈ اور لتھوانیا نے شکوک یا احتیاط کا اظہار کیا
  • کریملن کے مطابق امن کے لیے روس کے مفادات کو مکمل طور پر مدنظر رکھنا ہوگا
90 منٹکال کا دورانیہ
ابوظہبی، آئندہ ماہمجوزہ مذاکرات

الجزیرہ کے مطابق فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں نے منگل کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے غیر معمولی ٹیلی فونی رابطہ کیا۔ بات چیت 90 منٹ جاری رہی اور اس کا مقصد آئندہ ماہ ابوظہبی میں امریکی ثالثی سے ہونے والے مذاکرات سے پہلے یوکرین جنگ کے خاتمے پر زور دینا تھا۔

یہ رابطہ مغربی یورپی سربراہان کی اس دیرینہ پالیسی سے ہٹ کر تھا جس میں روسی رہنما سے براہ راست بات سے گریز کیا جاتا رہا۔ فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹوئرے نے بات کی۔ اس کے بعد یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی رابطہ کیا گیا۔

اسٹب نے گفتگو کو "صاف گو اور بامقصد" قرار دیا۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے یورپ کے نمائندوں کے طور پر نہیں بلکہ اپنی انفرادی حیثیت میں بات کی، اور یہ رابطہ 20 اکتوبر کو اوسلو کی ملاقات کا تسلسل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تیاری یوکرین اور امریکا کے مشورے سے ہوئی، تمام مغربی اتحادیوں سے مشاورت کی گئی اور یوکرین نے نیا رابطہ چینل کھولنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اسٹوئرے نے کہا کہ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور دوسری طرف سے بات کرنے کا مطلب دباؤ ہٹانا نہیں۔

کریملن کے خلاصے کے مطابق پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب روس کے جائز مفادات کو مکمل اور غیر مشروط طور پر مدنظر رکھا جائے۔ اس نے یورپی یونین اور نیٹو ممالک کی محاذ آرائی پر مبنی پالیسیوں کا بھی ذکر کیا جو اس کے بقول لڑائی طویل کر رہی ہیں۔ ترجمان دمتری پیسکوف نے کال کو "تعمیری اور بامقصد" کہا اور کہا کہ پیوٹن کا موقف سب کو معلوم ہے۔

وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ اس کال میں "کچھ نیا نہیں" تھا اور یورپی ممالک مذاکرات میں کردار چاہتے ہیں۔ صدارتی مشیر یوری اوشاکوف نے کہا کہ کیف کا موجودہ رہنما جائز نہیں اور زیلنسکی براہ راست بات چاہتے ہیں تو ماسکو آئیں۔

یورپ میں ردعمل ملا جلا رہا۔ سویڈن کے وزیراعظم الف کرسٹرسن نے کہا کہ انہیں زیادہ توقعات نہیں اور کچھ یورپی رہنماؤں کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ڈنمارک کی میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ یورپ کو الگ الگ چلنے کے بجائے متحد رہنا چاہیے۔ پولینڈ کے ڈونلڈ ٹسک نے بتایا کہ انہوں نے اسٹب اور اسٹوئرے سے کہا کہ ایسے رابطوں میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔ لتھوانیا کے وزیر خارجہ کیستوتس بڈریس نے کہا کہ روس سے ہر رابطے کی پشت پر متحدہ موقف، حقیقی دباؤ اور یورپی مطالبات کی فہرست ہونی چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ روسی اور یوکرینی صدور کے درمیان براہ راست مذاکرات "بہت جلد" ہوں گے۔ الجزیرہ کے مطابق مغربی رہنما امریکی قیادت میں ہونے والے مذاکرات سے بڑی حد تک الگ رہ گئے ہیں، اور تجزیہ کار گرہارڈ مانگوٹ کے بقول یورپی حکومتیں خود کو بند گلی میں لے گئی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

یوکرین جنگ کی سفارت کاری عالمی توانائی قیمتوں اور بڑی طاقتوں کی سیاست پر اثر ڈالتی ہے، جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نمٹنا ہوتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

یوکرین جنگپیوٹنفن لینڈ

اس خبر پر مزید