اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمانی اکثریت حاصل نہ کر سکا
حتمی نتائج کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کے اتحاد نے 120 میں سے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ اکثریت کے لیے 61 درکار ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کئی ہفتوں کے مذاکرات متوقع ہیں اور عرب جماعتیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

- نیتن یاہو کے اتحاد کی 120 میں سے 53 نشستیں، اکثریت کے لیے 61 درکار۔
- گیدی آئزن کوٹ کی قیادت میں حزب اختلاف کے اتحاد کی 48 نشستیں۔
- عرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ کی مجموعی 19 نشستیں۔
- لیکود کے دھاندلی کے الزامات کو الیکشن کمیٹی نے بے بنیاد قرار دیا۔
اسرائیل کے انتخابات کے حتمی نتائج جمعے کی صبح جاری ہوئے، جن سے تصدیق ہوئی کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمان میں اکثریت کھو بیٹھا ہے۔ ووٹنگ منگل کو ہوئی تھی۔ ڈی ڈبلیو اور فرانس 24 کے مطابق دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے اس اتحاد نے کنیسٹ کی 120 میں سے 53 نشستیں جیتیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 61 درکار ہیں۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے 27 نشستیں حاصل کیں اور وہ پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ گیدی آئزن کوٹ کی قیادت میں مرکزی حزب اختلاف کے اتحاد نے 48 نشستیں جیتیں۔ کسی بھی فریق کے پاس اکثریت نہیں۔ عرب نیوز کے مطابق دونوں رہنما اپنی حمایت بڑھانے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
عرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں، جس سے حکومت سازی میں ان کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ فرانس 24 نے ان کی کارکردگی کو تاریخی قرار دیا۔ جوائنٹ لسٹ کے رہنما یوسف جبارین نے کہا کہ ان کی جماعت نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے لیے حزب اختلاف سے تعاون پر تیار ہے، مگر نئی حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔
اتحاد سازی کے مذاکرات میں کئی ہفتے لگنے کی توقع ہے اور ان میں الٹرا آرتھوڈوکس سے لے کر سیکولر اور عرب قیادت والی جماعتوں تک مختلف الخیال گروہ شامل ہوں گے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق مذاکرات ناکام ہوئے تو نئے انتخابات کا امکان ہے۔
جمعرات کو لیکود نے الزام لگایا کہ عرب جماعتوں کی کامیابی کی ایک وجہ ووٹروں کی دھاندلی ہے۔ فرانس 24 کے مطابق یہ الزام کوئی ثبوت دیے بغیر لگایا گیا۔ لیکود کے بیان میں کہا گیا کہ رعام گیٹ اسکینڈل ایک سیاسی زلزلہ ہے اور اسرائیل کے انتخابات چوری کر لیے گئے ہیں۔ نیتن یاہو کے حامیوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ عرب جماعتوں کو بیرونی فنڈنگ ملی۔ عرب جماعتوں اور قطر نے اس کی تردید کی۔ الزام کا مرکز یہ دعویٰ ہے کہ رعام کو قطر سے رقم ملی جو ووٹ خریدنے میں استعمال ہوئی۔
الیکشن کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیون نے وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں کے دعووں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔ اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت نے مشتبہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی۔ پولیس نے ایک ایسے معاملے میں تین مشتبہ افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی جس میں عرب جماعتوں کو نقد رقم کے لفافے دیے جانے کا الزام ہے، جسے الیکشن کمیٹی نے محدود مقامی واقعہ قرار دیا۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق گزشتہ سال نیتن یاہو کے دو معاونین کو قطر سے رقوم لینے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فرانس 24 کے مطابق ان الزامات کو نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے عرب مخالف بیان بازی میں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
اسرائیل کی نئی حکومت فلسطین اور خطے کی اس سفارت کاری پر اثر ڈالے گی جس پر پاکستان گہری نظر رکھتا ہے۔



